Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراکش: صحرا کے شہسواروں کی عالمی معرکہ آرائی کی تیاری

Updated: May 26, 2026, 7:04 PM IST | Rabat

مراکش، جس نے ۲۰۲۲ء کے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچ کر تاریخ رقم کی تھی، اب ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئے جوش کے بعد میدان میں اتر رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مراکش، جس نے ۲۰۲۲ء کے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچ کر تاریخ رقم کی تھی، اب ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئے جوش کے بعد میدان میں اتر رہا ہے۔ ولید الرکراکی کے مارچ میں عہدہ چھوڑنے کے بعد محمد وہبی کو ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ وہبی نے اس سے قبل مراکش کی انڈر  ۲۰؍ٹیم کو ورلڈ کپ جتایا تھا۔ مراکش کو سینیگال کے خلاف فائنل میں شکست ہوئی تھی، لیکن سینیگال کے کھلاڑیوں کے احتجاجاً میدان چھوڑنے پر سی اے ایف نے سینیگال سے ٹائٹل چھین کر مراکش کو دے دیا، جس کا کیس اب عالمی عدالت (سی اے ایس) میں زیرِ سماعت ہے۔
مراکش اپنے سفر کا آغاز برازیل کے خلاف ایک بڑے مقابلے سے کرے گا، جس کے بعد ان کا سامنا اسکاٹ لینڈ اور ہیٹی سے ہوگا۔مراکش اس وقت دنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے (جرمنی، نیدرلینڈز او ر بلجیم  جیسی ٹیموں کے قریب)۔

یہ بھی پڑھئے : فٹبال :ہندوستان کی خواتین نے مالدیپ کو ۱۱؍گول سے شکست دی

ٹیم کی قیادت افریقہ کے بہترین کھلاڑی اورپی ایس جی  کے اسٹار اشرف حکیمی کر رہے ہیں۔ ٹیم میں ابراہیم ڈیاز اور نئے شامل ہونے والے ایوب بوادی جیسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ یورپ میں پیدا ہونے والے مراکشی نژاد کھلاڑیوں (جیسے حکیمی اور ڈیاز) کو قومی ٹیم کا حصہ بنانا۔

یہ بھی پڑھئے : یورپی فٹ بال: محمد صلاح کا اشکبار آنکھوں کے ساتھ لیورپول کو الوداع

مراکش نہ صرف اس ورلڈ کپ میں ’فائنل جیتنے‘ کا خواب دیکھ رہا ہے بلکہ وہ ۲۰۳۰ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی (اسپین اور پرتگال کے ساتھ) کی تیاری بھی کر رہا ہے، جس کے لیے کاسابلانکا کے قریب ایک لاکھ ۱۵؍ ہزار نشستوں والا عظیم الشان اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے۔مراکش کی عالمی ساکھ اور کھلاڑیوں کی صلاحیت کو دیکھ کر ہم خواب دیکھ سکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہم ورلڈ کپ جیت سکتے ہیں۔‘‘ حالیہ مہینوں میں کوچ کی تبدیلی اور سینیگال کے ساتھ جاری تنازع کے باوجود، ’’ایٹلس لائنز‘‘ امریکہ میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK