Updated: April 30, 2026, 5:03 PM IST
| New Delhi
سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس میں قرۃ العین رہبر کو ٹرول کیا گیا، ان کی ساکھ پر سوال اٹھائے گئے اور ان کی رپورٹنگ کو ”فیک نیوز“ قرار دیا گیا۔ کئی صارفین نے ان کے خلاف توہین آمیز تبصرے بھی کئے اور ان کی شناخت کو غیر متعلقہ سیاسی مسائل سے جوڑ کر پیش کیا۔ ان صارفین نے رہبر کی رپورٹ میں اٹھائے گئے خدشات کو مسترد کر دیا۔
قرۃ العین رہبر۔ تصویر: ایکس
آزاد صحافی قرۃ العین رہبر کو ’نکئی ایشیا‘ (Nikkei Asia) میں مغربی بنگال کی ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی سے متعلق ان کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد آن لائن بدسلوکی اور مبینہ ’ڈاکسنگ‘ (ذاتی معلومات افشا کرنے) کی لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رہبر، جن کی رپورٹس الجزیرہ سمیت کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکی ہیں، کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا۔ متعدد صارفین نے ان کی کشمیری مسلم خاتون کی شناخت پر فرقہ وارانہ اور ذاتی حملے کئے۔
سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس میں قرۃ العین رہبر کو ٹرول کیا گیا، ان کی ساکھ پر سوال اٹھائے گئے اور ان کی رپورٹنگ کو ”فیک نیوز“ (جھوٹی خبر) قرار دیا گیا۔ کئی صارفین نے توہین آمیز تبصرے بھی کئے اور ان کی شناخت کو غیر متعلقہ سیاسی مسائل سے جوڑا۔ کچھ صارفین کا دعویٰ تھا کہ انتخابی فہرستوں کی ایس آئی آر، ایک معمول کا انتظامی عمل تھا جس کا مقصد دوہرے یا نااہل اندراجات کو ختم کرنا تھا۔ ان صارفین نے رہبر کی رپورٹ میں اٹھائے گئے خدشات کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی حقوق کمیشن پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی تنقید،’’مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کیوں؟‘‘
مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی نظرِ ثانی کی متنازع مہم پر رہبر کی کوریج کے بعد ان کے خلاف یہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ووٹر لسٹوں سے بڑی تعداد میں نام حذف کر دیئے گئے ہیں۔ یہ عمل پہلے ہی سیاسی جانچ پڑتال کا شکار ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے ممکنہ طور پر لاکھوں شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کئے جانے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف حکام کا اصرار ہے کہ ناموں کا اخراج صرف جائز وجوہات جیسے موت، ہجرت یا دوہرے اندراج کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔
اس تنقید کے درمیان، متعدد صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے قرۃ العین رہبر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ آن لائن بدسلوکی اور ان کی ذاتی معلومات آن لائن ظاہر کرنے کی مبینہ کوششوں کی بھی مذمت کی۔ مبصرین نے اس ردِعمل کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشان دہی کی کہ ان کی رپورٹنگ کے متن پر بحث کرنے کے بجائے ان کی مذہبی اور علاقائی شناخت کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا نفرت انگیز تقاریر پر اضافی ہدایات دینے سے انکار؛ موجودہ قانونی ڈھانچے کو کافی قرار دیا
خاتون صحافی کی حمایت کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ قرۃ العین رہبر کے خلاف شدید ردِعمل، آزاد صحافت کے خلاف بڑھتی ہوئی عداوت کے وسیع تر نمونے کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر جب یہ رپورٹس بین الاقوامی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے حملے آزادیِ صحافت کو نقصان پہنچانے اور حساس سیاسی مسائل پر تنقیدی رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتے ہیں۔