• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیلجیئم کا مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے گھروں کی تلاشی کی اجازت

Updated: November 06, 2026, 10:17 PM IST | Brussels

بیلجیئم مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے گھروں کی تلاشی کی اجازت دے گا، پارلیمنٹ نے جمعہ کی صبح ایک متنازعہ قانون کی منظوری دی جس میں پولیس کو مشتبہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے جنہوں نے ملک چھوڑنے کے احکامات کو نظر انداز کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بیلجیئم مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے گھروں کی تلاشی کی اجازت دے گا، پارلیمنٹ نے جمعہ کی صبح ایک متنازعہ قانون کی منظوری دی جس میں پولیس کو مشتبہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے جنہوں نے ملک چھوڑنے کے احکامات کو نظر انداز کیا ہے۔یہ اقدام وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی طرف سے تارکین وطن کی آمد کو محدود کرنے اور ملک میں رہنے کا حق مسترد کیے جانے والوں کی بے دخلی میں اضافہ کرنے کے وسیع تر دباؤ کا حصہ ہے۔ بعد ازاں اس قانون سازی کو انسانی حقوق کے گروپوں اور وکلاء کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہے، جن کا استدلال ہے کہ امیگریشن کے نفاذ کے لیے پولیس کو نجی گھروں میں داخل ہونے کی اجازت دینا آئینی حقوق اور رازداری کے قوانین کو کمزور کرنے کا خطرہ ہے۔بدھ کی شام تقریباً۳۰۰۰؍ افراد نے اس بل کے خلاف احتجاج کے لیے برسلز کے پیلس آف جسٹس کے گرد انسانی زنجیر بنائی۔ بیلجیئم میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک بھر کے قصبوں اور شہروں میں۵۰؍ سے زیادہ دیگر مظاہرے اور اجتماعات منعقد کیے گئے۔
قانون کو بالآخر رات بھر جاری رہنے والی طویل بحث کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح۵؍ بجے کے قریب قانون سازوں کی اکثریت نے منظور کیا۔تاہم تلاشی ان لوگوں کے گھروں تک محدود ہوگی جنہیں بیلجیئم میں پناہ سے انکار کیا گیا ہے، جنہوں نے ملک چھوڑنے کے احکامات کو نظر انداز کیا ہے اور جنہیں عوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔مزید برآں گھروں کی تلاشی کے لیے ایک تفتیشی جج کی منظوری ضروری ہوگی اور یہ امیگریشن حکام کی موجودگی میںصرف صبح۵؍ بجے سے۹؍ بجے کے درمیان ہو سکتی ہے۔ 
حالانکہ ووٹ سے پہلے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ قانون سازی کو مسترد کر دیں، جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ غیر دستاویزی تارکین وطن کی مدد کرنے والے لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جبکہ حکومت نے ملک بدری کے احکامات کو نافذ کرنے کے ایک آلے کے طور پر  اس اقدام کا دفاع کیا ہے جو ان لوگوں کے لیے ہیں جنہیں عوامی نظم و ضبط یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK