• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بار بار کرنسی کی قدر گھٹانے کے باوجود پاکستان کی معیشت میں بہتری نہیں

Updated: November 06, 2026, 10:10 PM IST | New Delhi

روپے کی مسلسل گراوٹ سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوسکا، مہنگائی اور پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتوں پر دباؤ؛ کمزور حکمرانی، درآمدات پر انحصار اور محدود پیداواری صلاحیت کو بنیادی مسائل قرار دیا گیا۔

Pakistani.Photo:INN
پاکستان۔ تصویر:آئی این این

پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں بار بار کمی کی گئی، لیکن اس حکمت عملی کے باوجود ملک کی اقتصادی کارکردگی میں پائیدار بہتری نہیں آسکی۔ ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف کرنسی کی قدر گھٹانے سے کسی ملک کی برآمدات، صنعتی پیداوار اور مجموعی معاشی مسابقت میں اضافہ ممکن نہیں، جب تک معیشت کے بنیادی مسائل حل نہ کیے جائیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مالیاتی خسارہ، مہنگائی، کمزور ٹیکس نظام، درآمدی اشیا پر انحصار، غیر یقینی کاروباری ماحول اور پیداواری صلاحیت کی کمی جیسے مسائل روپے کی قدر میں کمی کے ممکنہ فوائد کو ختم کردیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ٹیسلا سائبرٹرک کی پیداوار کم کرکے سائبرکیب کی تیاری بڑھائے گی

’دی فرائیڈے ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق پاکستان کی معیشت کی کارکردگی کا انحصار چار بنیادی ستونوں پر ہے، جن میں مجموعی معاشی استحکام، زرمبادلہ کی آمد، حکمرانی اور معاشی آزادی، نیز پیداواریت اور عالمی مسابقت شامل ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان چاروں شعبوں میں موجود کمزوریاں دور کیے بغیر صرف شرحِ تبادلہ میں تبدیلی کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا ممکن نہیں۔ 
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مسلسل مالیاتی خسارے، حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکس وصولی کے کمزور نظام نے معیشت کے استحکام کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے مالیاتی دباؤ بڑھتا ہے اور روپے کی قدر پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں کرنسی کی قدر کم کرنے سے وقتی طور پر برآمدات سستی ہوسکتی ہیں، لیکن اگر پیداواری نظام مضبوط نہ ہو تو اس کا فائدہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا۔
پاکستان کی صنعتوں کا بڑا حصہ خام مال، مشینری، ایندھن، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی کے بعد ان اشیا کی درآمد مہنگی ہوجاتی ہے، جس سے صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً پاکستانی مصنوعات کی بیرونی منڈیوں میں قیمت کم ہونے کے بجائے کئی مرتبہ مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح کرنسی کی قدر گھٹانے سے برآمدات کو جو ممکنہ مسابقتی فائدہ ملنا چاہیے، وہ مہنگے درآمدی خام مال اور پیداواری اخراجات کی وجہ سے بڑی حد تک ختم ہوجاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایندھن، مشینری اور صنعتی خام مال کی درآمد پر زیادہ انحصار پاکستان کی معیشت کی ایک بڑی کمزوری ہے۔ جب روپے کی قدر گرتی ہے تو ان اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کا اثر صنعتوں کے ساتھ عام صارفین پر بھی پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:حسام حسن کی معطلی کے بعد محمد صلاح کو مصر کی قومی فٹبال ٹیم کا عبوری کوچ بنانے کی تجویز

تجزیے میں پاکستان کے انتظامی اور ادارہ جاتی نظام کو بھی معاشی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی، پیچیدہ ضابطے، سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی، دفتری تاخیر اور کاروباری پالیسیوں میں غیر یقینی صورت حال سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو کاروبار کے لیے مستحکم اور قابلِ اعتماد ماحول میسر نہ ہو تو وہ نئی صنعتیں لگانے، موجودہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور طویل مدتی منصوبوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بنیادی ڈھانچے، توانائی کی مسلسل فراہمی اور صنعتی کارکردگی میں موجود خامیاں بھی پاکستان کی عالمی مسابقت کو متاثر کررہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مسائل کے حل کے بغیر پاکستانی صنعتیں بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی جگہ مضبوط نہیں بنا سکتیں۔
 رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کرنسی کی مسلسل گراوٹ کے نتیجے میں مہنگائی بڑھنے کے ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ چونکہ پاکستان کو بیرونی قرضوں اور سود کی ادائیگی غیر ملکی کرنسی، خصوصاً امریکی ڈالر میں کرنی ہوتی ہے، اس لیے روپے کی قدر کم ہونے پر انہی واجبات کے لیے زیادہ پاکستانی روپے درکار ہوتے ہیں۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے کیونکہ اشیائے ضروریہ، ایندھن اور دیگر درآمدی مصنوعات مہنگی ہونے سے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں روپے کی قدر میں کمی سے برآمدات کو مطلوبہ فائدہ حاصل ہونے کے بجائے عام شہریوں کی زندگی مزید مشکل ہوسکتی ہے۔
 تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو بار بار روپے کی قدر گھٹانے کے بجائے اپنی معیشت کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ اس کے لیے ٹیکس نظام بہتر بنانے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے، مقامی صنعتی پیداوار بڑھانے، درآمدی خام مال پر انحصار کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ توانائی کی قیمتوں کو مسابقتی بنانا، کاروباری ضابطوں کو آسان کرنا اور سرمایہ کاروں کے لیے پالیسیوں میں استحکام پیدا کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اُرمیلا ماتونڈکر نے کلاسیکی گیت ’میرے پیا گئے رنگون‘ پر پرفارمنس دیا

رپورٹ کے مطابق روپے کی مضبوطی کو معاشی پالیسی کا واحد ہدف بنانے کے بجائے اسے بہتر اقتصادی انتظام، مضبوط پیداوار اور پائیدار برآمدات کا نتیجہ ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان نے پیداواری صلاحیت، حکمرانی اور صنعتی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے تو ملک مہنگائی، کمزور برآمدات، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور کرنسی کی گراوٹ کے ایک مسلسل چکر میں پھنسا رہ سکتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مئی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت میں بحالی کے کچھ آثار بھی ظاہر کیے گئے تھے۔ اس کے مطابق مالی سال ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو اوسطاً ۳ء۸ فیصد رہی، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ تاہم اس رپورٹ میں مہنگائی، بیرونی حالات اور مالیاتی خطرات کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے گئے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود برآمدات، صنعتی مسابقت اور پیداواری صلاحیت جیسے بنیادی شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK