Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال :  ایس آئی آر میں  نام نہیں تو سرکاری اسکیم کا فائدہ بھی نہیں 

Updated: May 14, 2026, 7:02 AM IST | Kolkata

شوبھندو حکومت کا اعلان، بہار میں  سرکاری اسکیموں سے محرومی کے ساتھ ہی بینک کھاتے بھی منسوخ ہوںگے، راشن کارڈس سے ۵؍ لاکھ نام کاٹ دیئے گئے

Millions of people are facing tribunals after their names were removed from the SIR
ایس آئی آر میں نام کٹنےکے بعد لاکھوں افراد ٹربیونلوں کی ٹھوکریں کھارہے ہیں

ایس آئی آر میں  نام نہ آنے کی وجہ سے پہلے ہی  ذہنیت اذیت کا شکار لاکھوں افراد کو ایک اور بڑا جھٹکا   دیتے ہوئے مغربی بنگال اور بہار حکومتوں  نے انہیں  سرکاری  اسکیموں سے محروم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ بنگال اور بہار کی حکومتوں نے کہا ہے کہ ایسے افراد ریاستی سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ البتہ مغربی بنگال کی نئی منتخب حکومت نے اتنی راحت دی ہے کہ جن لوگوں کے معاملات ٹریبونلز میں زیرِ سماعت ہیں، انہیں فیصلہ آنے تک سابقہ سہولیات ملتی رہیں گی۔ یہ خبر انڈین ایکسپریس نے دی ہے۔ 
’ غیر قانونی درانداز ‘ کو اسکیموں کا فائدہ نہیں: شوبھندو
 مغربی بنگال میں  پیر کو بی جے پی حکومت کی  پہلی کابینہ میٹنگ  میں اعلان کیا گیا کہ سابق حکومت کی تمام سماجی اسکیموں  کو جاری رکھنے کا اعلان کیاگیا اور  بتایاگیا کہ وہ مرکزی اسکیمیں بھی اب  شہریوں کو  دستیاب ہوں گی جنہیں ٹی ایم سی  نے روک رکھا تھا۔  وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہاکہ’’ تمام سماجی اسکیمیں، چاہے وہ۳۰؍ سال پہلے شروع ہوئی ہوں یا۱۰؍ سال پہلے،  سب جاری رہیں گی۔ تاہم اب یہ تمام اسکیمیں شفاف طریقے سے  نافذ کی جائیں گی۔ مردہ شخص کے نام پر، غیر قانونی درانداز  یا ایسے افراد جو  ہندوستانی شہری نہیں ہیں، انہیں  بنگال کے شہریوں کیلئے مختص فوائد حاصل  نہیںکرنے  دیا جائےگا۔‘‘
بہار میں  راشن کارڈ اور بینک پاس بک سے بھی محرومی
 پٹنہ میں دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں بہار کے وزیراعلیٰ  سمرت چودھری نے کہاکہ ’’جن لوگوں کے نام بہار کی ووٹر لسٹ سے حذف کر دیئے گئے ہیں، وہ راشن اور دیگر فلاحی اسکیموں سمیت کسی بھی سرکاری فائدہ کے حقدار نہیں ہوں گے۔‘‘ چودھری کے مطابق’’ ایسے افراد کی بینک پاس بُکس بھی مناسب وقت پر منسوخ کر دی جائے گی۔‘‘ اس سوال پر کہ کیا اس ضمن میں کوئی سرکاری حکم جاری کیاگیاہے،  بہار کے وزیراعلیٰ  نے کہا کہ حکومت کے آئندہ اقدامات پرکسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ بہار کے وزیر خوراکاشوک چودھری نے  بتایاکہ ’’ریاست میں  ایس آئی آر کے بعد راشن کارڈ ہولڈرس میں سے تقریباً ۵؍لاکھ افراد کے نام حذف کئے  جا چکے ہیں۔‘‘
 جن کے نام ایس آئی آر میں نہیں وہ ہندوستانی نہیں!
  بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے ان لوگوں کی وضاحت کرتےہوئے جو  سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، ’’غیر بھارتی‘‘کا لفظ استعمال کیا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے مغربی بنگال کے وزیر خوراک و رسد اشوک کرتانیا نے کہا کہ ’’یہ واضح ہے کہ جن ناموں پر ٹریبونلز غور کر رہے ہیں، وہ سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جو لوگ سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کے تحت شہریت کیلئے درخواست دے چکے ہیں، وہ بھی تمام سرکاری اسکیموں سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں… لیکن جن کے نام ایس آئی آر کے ذریعے حذف  کئے  گئے ہیں، وہ سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔‘‘
’ایس آئی آر ‘کی بنیاد پر راشن کارڈ کی جانچ 
  وزیر  نے بتایاکہ انہوں نے پہلے ہی اپنے محکمے کے افسران  کے ساتھ’’راشن کارڈوں کی جانچ مہم‘‘ کیلئے میٹنگ کی ہے تاکہ ایس آئی آر کے تحت حذف  کئے گئے افراد کو الگ کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ’’بہت سے راشن کارڈ ایسے لوگوں کے نام پر ہیں جو فوت ہو چکے ہیں یا  جو ہندوستانی نہیں ہیں۔‘‘
  ایس آئی آر میں جن کے نام کٹے ہیںانہیں ’’غیر قانونی درانداز‘‘قرار دیتے ہوئے، متوا برادری کے لیڈرکرتانیا نے زور دیا کہ جو لوگ سی اے اے کے تحت اہل ہیں، انہیں شہریت کیلئے  درخواست دینے کو کہا جا رہا ہے۔ (مغربی بنگال میں سی اے اے کے بیشتر درخواست دہندگان متوا برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو بنگلہ دیش سے  ہندوستان آئے تھے۔)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK