Updated: May 13, 2026, 10:05 PM IST
| Cannes
معروف اسکاٹس اسکرین رائٹر اور وکیل Paul Laverty نے Cannes Film Festival میں غزہ جنگ پر خاموشی اختیار کرنے پر ہالی ووڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سوزن سیرنڈون، ہاویئر بارڈیم اور مارک روفالو جیسے اداکاروں کو فلسطین اور غزہ کے حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے ’’بلیک لسٹ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ لاورٹی نے فنکاروں پر زور دیا کہ وہ سیاسی موضوعات سے گریز نہ کریں۔
دو مرتبہ Palme d’Or جیتنے والے معروف اسکرین رائٹر Paul Laverty نے Cannes Film Festival کے دوران ایک پریس کانفرنس میں ہالی ووڈ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف آواز اٹھانے والے اداکاروں اور فنکاروں کو فلمی صنعت میں نظر انداز اور ’’بلیک لسٹ‘‘ کیا جا رہا ہے۔ کانز جیوری کے رکن لاورٹی نے خاص طور پر سوزن سیرنڈون، ہاویئر بارڈیم اور مارک روفالو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنکار انسانی حقوق اور غزہ میں شہری ہلاکتوں کے خلاف بولنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران لاورٹی نے کہا، ’’ہالی ووڈ کو شرم آنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جن اداکاروں کو تنقید اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہے، وہ ’’ہم میں سے بہترین لوگ‘‘ ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم اور جنگ کے خلاف بولنے کی ہمت دکھائی۔
یہ بھی پڑھئے : ’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ ۲۴؍ جون سے ڈزنی پلس پر اسٹریمنگ کیلئے تیار
انہوں نے کانز فلم فیسٹیول کی اس بات پر تعریف بھی کی کہ اس سال کے آفیشل پوسٹر میں لوئسے تھیلما سے سوزن سیرنڈون کی تصویر شامل کی گئی۔ لاورٹی کے مطابق یہ ایک علامتی پیغام تھا کہ فن اور آزادی اظہار کو دبایا نہیں جا سکتا۔ رپورٹس کے مطابق سوزن کو ۲۰۲۳ء میں فلسطین کے حق میں ایک ریلی سے خطاب کے بعد اپنی ٹیلنٹ ایجنسی سے محروم ہونا پڑا تھا۔ ان پر سام دشمنی کے الزامات بھی لگائے گئے۔ اداکارہ نے بعد میں کہا تھا کہ غزہ کے بارے میں ان کے واضح مؤقف نے ہالی ووڈ میں ان کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
لاورٹی نے اپنی گفتگو میں سیاسی سنیما کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فلم سازوں اور فنکاروں کو بحران، جنگ اور ناانصافی جیسے موضوعات سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے ولیم شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے کنگ لیئر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ادب، تھیٹر اور سنیما ہمیشہ سیاست اور انسانی کشمکش سے جڑے رہے ہیں۔ کانز جیوری کے صدر پارک چان ووک نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست اور فن ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ تخلیقی انداز میں پیش کیے جائیں تو فنکارانہ اظہار کو مزید طاقتور بناتے ہیں۔ بحث کے دوران فلمی صنعت میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ حال ہی میں میٹا نے کانز کے ساتھ ایک ملٹی ایئر اسپانسرشپ معاہدہ کیا ہے، جس پر لاورٹی نے تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقتور ٹیکنالوجی ارب پتی ثقافتی اور سماجی زندگی پر غیر معمولی اثر ڈال رہے ہیں۔
اسی دوران کانز جیوری کی رکن ڈیمی مورے نے فلمی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اے آئی فلم سازی کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن ’’حقیقی فن‘‘ آخرکار انسانی روح اور جذبات سے پیدا ہوتا ہے، جسے مکمل طور پر مشینوں کے ذریعے نقل نہیں کیا جا سکتا۔ غزہ جنگ کے تناظر میں یہ بحث ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی فلمی صنعت میں اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمی اور فنکاروں کی آزادی پر شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے فنکاروں کو پیشہ ورانہ دباؤ اور عوامی مہمات کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب کئی ادارے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں۔ پال لاورٹی کے بیانات نے کانز میں جاری اس وسیع بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا عالمی فلمی صنعت سیاسی دباؤ سے آزاد رہ سکتی ہے یا نہیں۔