Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں۱۵۲؍ کے بعد ۱۴۲؍ پر آزمائش

Updated: April 28, 2026, 11:43 PM IST | Kolkata

دوسرے اور آخری مرحلے میں آج جنوبی بنگال میں پولنگ ، سخت رسہ کشی، خلاف معمول سیکوریٹی ،مرکزی پولیس فورس کے بعد اب این آئی اے کی بھی اِنٹری، ممتا کے قلعہ میں ممتا کا امتحان، اِ س مرحلہ کی نشستوں پر کامیابی طے کریگی کہ بنگال میں اگلی حکومت کون بنائےگا

Election workers leave for polling stations in Bengal. (PTI)
بنگال میں انتخابی عملہ ووٹنگ مراکز کیلئے نکلتے ہوئے۔ ( پی ٹی آئی)

مغربی بنگال میں  پہلے مرحلہ  میں  ۱۵۲؍ نشستوں پر ووٹنگ کے بعد بدھ کو دوسرے اور آخری  مرحلہ میں  ۱۴۲؍ سیٹوں پر  پولنگ کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ سیکوریٹی  کے غیر معمولی انتظامات اور مرکزی پولیس فورسیز کے  ڈھائی لاکھ سے زیادہ جوانوں کی تعیناتی کے ساتھ ہی اب یہاں این آئی اے کی بھی اِنٹری ہو گئی ہے ۔الیکشن کمیشن نے منگل کو بتایا کہ اس نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے کہ شرپسند عناصرپولنگ میں  رخنہ اندازی کیلئے بموں کا استعمال نہ کرسیکیں۔
  مغربی بنگال کے ووٹر   دوسرے اور آخری مرحلے کی اس  ووٹنگ  میں  نہ صرف  ۱۴۲؍ اراکین  اسمبلی کا انتخاب کریںگے بلکہ یہ بھی طے کریں گے  کہ  ریاست کے جنوبی حصے میں جو ٹی ایم سی کا قلعہ ہے، میں اُس کا دبدبہ برقرار ہے  یا بی جےپی  سیندھ لگانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔جن ۱۴۲؍  نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، ان میں سے۲۰۲۱ء میں ترنمول کانگریس نے۱۲۳؍ اور بی جے پی نے صرف۱۸؍ اور انڈین سیکولر فرنٹنے ایک  سیٹ جیتی تھی۔۵؍سال قبل بی جے پی کی جارحانہ مہم کے باوجود ممتا بنرجی کی پارٹی نے جنوبی بنگال میں کلین سویپ کیا اور آسانی سے اقتدار برقرار رکھا۔  اس مرحلے کے علامتی مرکز میں بھوانی پور ہے جو  وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا سیاسی گڑھ  ہے۔ بی جے پی نے اسے ٹی ایم سی کیلئے نفسیاتی میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اورٹی ایم سی کے باغی  اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کو میدان میں اتار ہے۔ 
 بی جے پی جس  پر الزام ہے کہ اس نے بنگال  میں اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے  اس نے مرکزی حکومت کی پوری طاقت جھونک دی ہے،  کیلئے دوسرا مرحلہ محض آخری مرحلہ نہیں بلکہ  اصل امتحان ہے ۔ اگر  پہلے مرحلہ کی پولنگ میں  بہتر کارکردگی  کے باوجود اگر وہ بدھ کے مرحلے میں سیٹیں نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتی اور ممتا اپنا قلعہ بچانے میں  کامیاب ہوجاتی ہیں تو وزیراعظم مودی کا بنگال میں  بی جےپی کی حکومت کی حلف برداری میں شرکت کا خواب خواب ہی رہ جائےگا۔  بدھ ۲۹؍ اپریل کو  شمالی چوبیس  پرگنہ کی  ۳۳، جنوبی چوبیس  پرگنہ کی۳۱،  ہاوڑہ کی ۱۶،  نادیہ کی ۱۷،  ہوگلی کی ۱۸،  پوربا بردھمان کی ۱۶،  اور کولکاتا  کی ۱۱؍  نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔  ۲۰۲۱ء میں  ترنمول نے کولکاتا کی تمام۱۱، ہاوڑہ کی تمام ۱۶،  جنوبی چوبیس  پرگنہ کی۳۱،؍میں سے۳۰،  شمالی چوبیس  پرگنہ کی۳۳؍ میں سے۲۸،ہوگلی کی۱۸؍ میں سے ۱۴؍  اور نادیہ کی۱۷؍ میں  سے۸؍ نشستیں جیتی تھیں۔ بی جے پی کو نمایاں کامیابی زیادہ تر شمالی۲۴؍ پرگنہ اور نادیہ میں ملی تھی  جو ماتوا اور مہاجر ووٹوں، شہریت کے مسئلے اور حکومت مخالف رجحان کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔یہی وجہ ہےکہ  بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے اپنی انتخابی مہم کا آخری حصہ تقریباً انہی اضلاع میں گزار ا ہے اور یہاں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK