Updated: April 28, 2026, 5:07 PM IST
| Jerusalem
اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسماری کا حکم دیا، غیر قانونی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھر وں میں آگ زنی کی ، عینی شاہدین کے مطابق درجنوں یہودی آباد کاروں نے منظم طور پر فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کیا،اور ان کے املاک کو نقصان پہنچایا، اورآگ لگادی۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں جالود میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے ایک فلسطینی گھر کو آگ لگا دی اور ایک خاندان کو بے دخل کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، درجنوںیہودی آباد کاروں نے نابلس کے جنوب میں بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس میں شہریوں پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔فلسطینی رہائشی ام شادی الطوباسی نے بتایا کہ آباد کاروں نے ان کے گھر کو نذر آتش کیا اور خاندان کے افراد پر حملے کر کے انہیں فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دس دنوں سے وہ مستقل خوف میں زندگی گزار رہی ہیں اور انہیں اپنی بجائے اپنے بچوں کی جان کی فکر ہے۔اس کے علاوہ جالود گاؤں کی کونسل کے سربراہ رائد الناصر نے بتایا کہ گاؤں کے۲۳۰۰۰؍ ڈیونم (ایک ڈیونم مساوی سوا ایکڑ) میں سے تقریباً۱۷۰۰۰؍ ڈیونم اسرائیلی آباد کاری کی توسیع کے لیے ضبط کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امید ہے کہ حماس غیر مسلح ہوجائے گا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
بعد ازاں طبی ذرائع نے تصدیق کی کہ یہودی آبادکاروں کے پتھروں اور لاٹھیوں سے کیے گئے حملوں میں۱۵؍ افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ زخمیوں میں چوٹیں، فریکچر اور گھر کی آگ سے دم گھٹنے کے معاملات شامل ہیں۔ دوسری جانب الخلیل کے جنوب میں اسرائیلی فورسیز نے فلسطینی رہائشی شادی خلیل غیث اور ان کی اہلیہ دعا خضر نصار کو حراست میں لے لیا۔ نیز بیرین گاؤں میں پانچ گھروں کے غیر قانونی انہدام کے نوٹس جاری کیے گئے۔ گاؤں کونسل کے سربراہ فرید برقان نے بتایا کہ اسرائیلی فورسیز نے نوٹس دینے کے لیے علاقے میں چھاپہ مارا۔ واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسیزاور غیر قانونی آباد کاروں کے حملوں میں ۱۱۵۰؍سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔