Updated: April 27, 2026, 9:12 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی رام نگر ریلوے روٹ پر ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک لڑکا بھیڑ بھرے جنرل ڈبے سے گر گیا، مگر مسافروں کی جانب سے ایمرجنسی چین بار بار کھینچنے کے باوجود ٹرین مبینہ طور پر۱۰؍ سے ۱۵؍ کلومیٹر تک نہیں رکی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے ریلوے سیکوریٹی اور ہنگامی نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مسافروں نے اس واقعے کو ’’سنگین لاپروائی‘‘ قرار دیا ہے۔
مغربی بنگال میں جلپائی گوڑی سے رام نگر جانے والی ٹرین میں پیش آنے والے ایک واقعے نے ریلوے کے حفاظتی نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایکس اور انسٹاگرام پر وائرل ہونے والے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کم عمر لڑکا بھیڑ بھرے جنرل کمپارٹمنٹ سے نیچے گر جاتا ہے، جس کے بعد ٹرین کے اندر شدید خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق لڑکے کی بہن کی چیخ و پکار سن کر مسافروں نے فوری طور پر ایمرجنسی چین کھینچنے کی کوشش کی، جو ایسے ہی حالات میں ٹرین کو فوری روکنے کے لیے نصب کی جاتی ہے۔ تاہم، مسافروں کا دعویٰ ہے کہ متعدد بار چین کھینچنے کے باوجود ٹرین نے رکنے کے بجائے مزید ۱۰؍ سے ۱۵؍ کلومیٹر تک سفر جاری رکھا۔
ویڈیو میں مسافروں کی بے بسی اور غصہ واضح طور پر نظر آتا ہے، جہاں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ لڑکے اور مدد کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، لڑکے کی بہن نے آن بورڈ ٹکٹ چیکر اور ریلوے ہیلپ لائن سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر اسے فوری مدد نہیں مل سکی۔ یہ واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر ہوا۔ صارفین نے نہ صرف ایمرجنسی چین کے نظام پر سوال اٹھائے بلکہ ریلوے کے مجموعی حفاظتی معیار پر بھی تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’اگر ایمرجنسی چین کھینچنے کے باوجود ٹرین نہیں رکتی تو مسافر کس چیز پر بھروسہ کریں؟‘‘ جبکہ دوسرے نے اسے ’’سنگین نظامی ناکامی‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین بلدیاتی انتخابات: ۱۹۷؍ کونسلوں میں بلامقابلہ جیت، ۵۴؍ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ
کئی صارفین نے بڑھتے ہوئے کرایوں کے ساتھ حفاظتی اقدامات میں کمی کی طرف بھی اشارہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ مسافروں سے زیادہ پیسے لیے جا رہے ہیں لیکن بنیادی سیکوریٹی بھی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔ تاحال انڈین ریلویز کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم عوامی دباؤ کے بعد ممکنہ انکوائری اور جوابدہی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بھیڑ بھاڑ، تکنیکی ناکامی اور بروقت ردعمل کی کمی کس طرح ایک معمولی حادثے کو بڑے سانحے میں تبدیل کر سکتی ہے، اور ریلوے جیسے بڑے نظام میں حفاظتی اقدامات کی مسلسل نگرانی کیوں ضروری ہے۔