Inquilab Logo Happiest Places to Work

اورنگ آباد میں سلنڈروں کی قلت، عوام میں سخت ناراضگی

Updated: May 06, 2026, 11:33 AM IST | Z A Khan | Aurangabad

اورنگ آباد میں ایک بار پھر گیس سلنڈروں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جسکے باعث شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی کے باوجود لوگ صبح سے شام تک سلنڈر کیلئےلمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔

LPG Shortage.Photo:INN
ایل پی جی کی قلت۔ تصویر:آئی این این
اورنگ آباد میں ایک بار پھر گیس سلنڈروں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جسکے باعث شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی کے باوجود لوگ صبح سے شام تک  سلنڈر کیلئےلمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔شہر کے بیڑ بائی پاس کے قریب ساتارا علاقے کی ہائی کورٹ کالونی میں واقع اہلیہ ایچ پی گیس ایجنسی پر روزانہ صبح ۹؍ بجے سے ہی لوگ قطار لگارہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں فروری کے بعد سے اب تک  سلنڈر نہیں ملا۔ شدید گرمی میں کام کاج چھوڑ کر سلنڈر کیلئے لائن میں کھڑا رہنا پڑ رہا ہے۔ایک صارف نے بتایا کہ ۲۸؍ فروری کو آخری بار سلنڈر ملا تھا، اسکے بعد دو ماہ ہو چکے ہیں سپلائی نہیں ہوئی۔ ۲۷؍ اپریل کو  او ٹی پی موصول ہوا تھا، لیکن اسے منسوخ کردیا گیا۔ 
 
 
منگل کو  بھی صبح  سے تقریباً ۲۰۰؍ افراد قطار میں موجود تھے۔شہریوں نے بتایا کہ شدید گرمی کی وجہ سے کئی افراد کی طبیعت خراب ہورہی ہے، لیکن قطار میں پینے کے پانی تک کا انتظام نہیں ہے۔ ایک اور صارف نے بتایا کہ وہ پیٹھن تعلقہ کے بڈکین ڈی ایم آئی سی علاقے سے تقریباً ۳۵؍ کلومیٹر دور سے سلنڈر لینے آیا ہے۔ کئی بار چکر لگانے کے باوجود گیس نہیں ملی، جس سے لوگ ذہنی اور مالی پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔متاثرہ افراد کے مطابق دیہی ضابطوں کے تحت ۴۵؍ دن بعد بکنگ کی اجازت ہے، جبکہ بکنگ کے بعد بھی ۱۰؍ تا ۱۵؍ دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ حالات میں اتنے طویل عرصے تک ایک سلنڈر چلانا ممکن نہیں رہا، خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
 
 
ادھر اہلیہ گیس ایجنسی کے دیپک سوریہ ونشی نے بتایا کہ یہ ایجنسی اس وقت منظور ہوئی تھی جب ساتارا علاقہ گرام پنچایت میں شامل تھا، لیکن ۲۰۱۶ء میں یہ علاقہ میونسپل کارپوریشن میں شامل ہوگیا۔ اسکے باوجود بکنگ کے ضابطے دیہی علاقوں کے مطابق نافذ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ضابطوں میں تبدیلی کیلئے کئی مرتبہ اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا، مگر اب تک مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکم مئی کی تعطیل، اتوار اور سپلائی میں کمی کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی اور لوگوں میں بے چینی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK