Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ امتحان کے دوران اے آئی کی مدد سے پرچہ لکھنے والے ۲؍ طلباء گرفتار

Updated: May 06, 2026, 11:27 AM IST | Ali Imran | Gadchiroli

گڈچرولی کے ۲؍ الگ الگ امتحان مراکز پر ۲؍ طلباء اپنے موبائل پر سوالیہ پرچہ اپ لوڈ کرکے اے آئی سے صحیح جوابات پوچھ رہے تھے ۔

Using Technology For Cheating!.Photo:INN
نقل کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال!- تصویر:آئی این این
نیٹ امتحان کے دوران گڈ چرولی کے  ۲؍ الگ الگ امتحان مراکز پر اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے پر چہ لکھنے والے ۲؍ طلباء کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس معاملے میں پبلک ایگزامینیشن ایکٹ ۲۰۲۴ء کے تحت گڈچرولی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
 
 
پہلا واقعہ دھانورا روڈ پر شیواجی کالج میں پیش آیا۔ سینٹر  نمبر ایک پر   ناگ بیہڑ (ضلع چندر پور) کا ایک ۲۰؍ سالہ طالب علم مشتبہ حرکت کرتا پایا گیا۔ جب سپروائزر راجیش پاٹل اور پولیس اہلکار راکھی مدھولکر نے اس کی تلاشی لی تو اس کے پاس  سے ایک موبائل فون ملا  ۔ معلوم ہوا اس نے سوالیہ پرچہ موبائل میں اپ لوڈ کرکے اے آئی کو پرچہ حل کرنے کا کمانڈ دیا تھا۔ دوسرا واقعہ گوکل نگر کے شیواجی کالج سینٹر میں سامنے آیاجہاں آشٹی شہر کا ایک ۱۷ سالہ طالب علم اپنے موبائل فون کے ساتھ امتحان دے رہا تھا۔ تقریباً سہ پہر ڈھائی بجے، تفتیش کار منیش بانبلے نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ امتحان کے بعد جب اس کا موبائل فون چیک کیا گیا تو فوٹو گیلری میں سوالیہ پرچے کی تصاویر پائی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طالب علم نے سوالیہ پرچہ کی تصاویر لے کر اے آئی کو بھیج دی تھیں، اور اس کے موبائل فون پر ہونے والی چیٹنگ سے واضح ہوا کہ اُس نے اسکے ذریعے سوالات کے صحیح جوابات حاصل کئے ہیں۔ 
 
 
اس معاملے میں، دو دن کی مزید تحقیقات کے بعد مرکز کے سربراہ راجکمار ناندگولی اور ارون مونگھاڈے کی طرف سے درج کروائی گئی شکایت کی بنیاد پر پبلک ایگزامنیشن ایکٹ ۲۰۲۴ء کے سیکشن ۳ (۸) و دیگر متعلقہ سیکشن کے تحت گڈچرولی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے دونوں طالب علموں کے موبائل فون اور امتحانی مرکز سے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے لی ہے۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہِرڈے کی نگرانی میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا اس ہائی ٹیک کاپی کے پیچھے کوئی بڑا ریکیٹ سرگرم ہے یا کوئی باہر سے ان کی مدد کر رہا تھا؟ اہم بات یہ ہے نیٹ  امتحان کیلئے بہت سخت ضابطے ہیں۔   طلبہ کیلئے سادہ لباس، سادہ چپل، پہننا ضروری ہے۔ نیز  کان اور ناک کی بالیاں، دیگر زیورات یا بالوں کے پنوں کا پہننا سختی سے منع ہے۔ لہٰذاسنگین سوال یہ ہے کہ یہ دونوں طلباء اتنی سخت جانچ سے گزر کر اپنے موبائل فون کے ساتھ امتحان گاہ میں داخل کیسے ہوگئے؟ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK