• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیانیش کمارکیخلاف احتجاج عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں، نوجوانوں کی مزاحمت نمایاں

Updated: October 12, 2026, 9:59 PM IST | New Delhi

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ۱۰؍ اکتوبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاج اور پولیس کی وسیع کارروائی نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ نیویارک ٹائمز، دی گارڈین، فنانشل ٹائمز، دی وال اسٹریٹ جرنل اور اسوسی ایٹڈ پریس سمیت متعدد اداروں نے دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات، میٹرو خدمات میں رکاوٹوں، مظاہرین کی بڑے پیمانے پر حراست اور نوجوانوں کی مزاحمت کو اپنی رپورٹنگ میں نمایاں کیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دہلی کی ناکہ بندی اور مظاہرین کی حراست عالمی توجہ کا مرکز

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے احتجاج کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے محض ایک سیاسی مظاہرے کے طور پر نہیں، بلکہ انتخابی عمل پر اعتماد، شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کے حق سے جڑے معاملے کے طور پر بھی پیش کیا۔ ۱۰؍ اکتوبر کو دہلی میں مظاہرین کو جن رکاوٹوں، گرفتاریوں اور حراستوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ عالمی رپورٹنگ کا اہم موضوع بنیں۔

دی نیویارک ٹائمز

دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں نوجوانوں کی ممکنہ آمد کے پیش نظر قومی دارالحکومت میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ شہر کے مختلف حصوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اقدامات نے احتجاج کے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: پیرس: ۴۱۱؍ سال پرانا تاریخی فوڈ مارکیٹ آگ سے تباہ، دھاتی ڈھانچا بھی منہدم

دی گارڈین

دی گارڈین نے دہلی میں سخت حفاظتی بندوبست، میٹرو خدمات میں رکاوٹوں اور پولیس و نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی پر توجہ مرکوز کی۔ اخبار نے لکھا کہ دارالحکومت میں ۲۵؍ ہزار سے زیادہ پولیس اور سیکوریٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں اس کارروائی کے سیاسی مضمرات پر بھی روشنی ڈالی گئی اور اس امکان کا ذکر کیا گیا کہ حکومت کو انتخابی فہرستوں سے متعلق بڑھتی بے چینی کے سیاسی اثرات کا خدشہ ہے۔ یہ اخبار کا تجزیہ تھا، حکومت کی جانب سے تسلیم شدہ وجہ نہیں۔

’’غیر معمولی‘‘ کارروائی اور نوجوانوں کی بے خوفی کا ذکر

بین الاقوامی رپورٹنگ میں پولیس کی کارروائی کے ساتھ نوجوان مظاہرین کے ردعمل کو بھی اہمیت دی گئی۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں سیکوریٹی انتظامات کی غیر معمولی نوعیت اور نوجوانوں کی مزاحمت کو نمایاں کیا گیا۔ مظاہرین کی گرفتاری، انہیں پولیس گاڑیوں میں لے جانے اور احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکنے کے واقعات نے بھی توجہ حاصل کی۔ 

فنانشیل ٹائمز

فنانشل ٹائمز نے دہلی کی صورتِ حال کو ایک ایسے شہر کے طور پر بیان کیا جہاں سیکوریٹی انتظامات نے احتجاج کی گنجائش کو محدود کردیا تھا۔ اخبار نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف بڑھتی ناراضی اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کو وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا۔

دی وال اسٹریٹ جرنل

دی وال اسٹریٹ جرنل نے بھی دارالحکومت میں سخت حفاظتی بندوبست اور مظاہرے کو روکنے کے لیے سیکوریٹی فورسیز کی تعیناتی کو اپنی رپورٹنگ میں جگہ دی۔ اس کوریج میں انتخابی فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور اس عمل کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کو احتجاج کے پس منظر کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان رپورٹوں میں ایک مشترک پہلو یہ رہا کہ دہلی میں احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران عائد پابندیوں اور حراستوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔ تاہم، مختلف اداروں کی رپورٹنگ اور ان کے تجزیوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے؛ کسی اخبار کا تبصرہ بذاتِ خود کسی الزام کے ثابت ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نیا خیال: بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل کا نام ’ٹرمپ اوشین‘ رکھنے کی تجویز

اسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں گرفتاریوں اور انٹرنیٹ پابندیوں پر توجہ

خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے احتجاج کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اور انتخابی حکام کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضی کے پس منظر میں رپورٹ کیا۔ اس کی کوریج میں سی جے پی کے لیڈروں ابھجیت دپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا کو احتجاج سے قبل حراست میں لیے جانے کا ذکر بھی شامل تھا۔ پولیس نے ۱۰؍ اکتوبر کو احتجاج کے لیے دہلی پہنچنے والے سی جے پی لیڈروں کو ہوائی اڈے پر حراست میں لیا۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات سے کارکنوں اور مظاہرین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ موبائل انٹرنیٹ پر پابندیوں، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں نے احتجاج میں شریک ہونے والوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔

رائٹرز

رائٹرز نے بھی دہلی میں بڑے پیمانے پر حراستوں اور شہر کے اہم حصوں میں سخت پابندیوں کی رپورٹ دی۔ اس کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر کو ۲؍ ہزار سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا، جب کہ دوسرے ذرائع نے مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی۔ مختلف اداروں کی جانب سے بتائی گئی تعداد میں فرق کے پیش نظر ان اعداد کو متعلقہ رپورٹ کے حوالے سے ہی بیان کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح

ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ

ان مظاہروں کا بنیادی پس منظر انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) ہے۔ ناقدین اور اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام حذف کیے گئے اور اس سے اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔ بعض سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس عمل سے اقلیتی برادریوں کے ووٹروں پر غیر متناسب اثر پڑا۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن اور حکمراں بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد فہرستوں کو درست کرنا اور نااہل، متوفی یا منتقل ہوچکے ووٹروں کے اندراجات کی جانچ کرنا ہے۔ اس لیے ناموں کے اخراج کی مجموعی تعداد اور اس کی وجوہات کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کتنے اہل ووٹروں کے نام غلطی سے حذف ہوئے اور ان کی بحالی کا طریقۂ کار کتنا مؤثر ہے۔

سی جے پی، بائیں بازو کی تنظیموں اور اپوزیشن کے مختلف حلقوں نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ۱۲؍ اکتوبر کو بھی دہلی میں انتخابی فہرستوں کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں اور اپوزیشن کی سپریم کورٹ تک مارچ کی کوشش کے پیش نظر کئی میٹرو اسٹیشنوں پر عارضی پابندیاں لگائی گئیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹنگ سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی کے احتجاج کو بین الاقوامی سطح پر انتخابی عمل کی شفافیت، شہریوں کے حقِ رائے دہی اور پُرامن اجتماع کی آزادی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان سوالات کا حتمی جواب انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف جانچ، متعلقہ اداروں کے مؤقف اور اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK