بنگلورو کا عیدگاہ میدان سرکاری ملکیت قراردیا گیا،وقف بورڈبرہم

Updated: August 08, 2022, 12:58 PM IST | Agency | Bengaluru

فیصلے کوعدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئےقانونی چارہ جوئی کا اعلان،ماہرین قانون سے صلاح و مشورہ

Controversy is also being created over Bengaluru Eidgah.Picture:INN
بنگلورو عید گاہ پر بھی تنازعہ پیدا کیا جارہا ہے۔ تصویر:آئی این این

وقف بورڈ نے اتوار کے روز کہا ہےکہ وہ برہن بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کی جانب سےعیدگاہ میدان کو محکمہ محصولات کی اراضی قرار دئےجانے کے بعد قانونی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔بی بی ایم پی کے فیصلہ پراعتراض ظاہر کرتے ہوئے وقف بورڈ کے چیئرمین شفیع سعدی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ۱۹۶۵ءمیںفیصلہ سنایا تھا کہ عیدگاہ میدان وقف بورڈ کی جائیداد ہے، لہٰذا بی بی ایم پی کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے اور اس سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔سعدی نے کہا کہ وقف بورڈ اس معاملہ میں قانونی جنگ لڑے گا اور قانون کے ماہرین سے رابطہ قائم کیاجا رہا ہے۔ خیال رہے کہ بی بی ایم پی نےپہلے کہا تھا کہ ملکیت اس کی نہیں ہے لیکن سنیچر کے روز اس نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عیدگاہ میدان محکمہ محصولات کی ملکیت ہے۔ وقف بورڈنے بی بی ایم پی کے ایک کھاتہ (ملکیت کا قانونی دستاویز)کے لئے درخواست پیش کی تھی، جسے خارج کر دیا گیا۔ جوائنٹ کمشنر سرینواس نے وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عیدگاہ میدان کے مالکانہ حقوق کا دعویٰ کرنے کیلئے دستاویز جمع کرنے کو کہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بی بی ایم پی نے دستاویزجمع کرنےکیلئے دو مہینے کا وقت فراہم کیا تھا۔چونکہ وقف بورڈ ضروری دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا بی بی ایم پی نے کھاتہ جاری کرنے سے انکار کر دیا اور کرناٹک کے محکمہ محصولات کو اراضی کا فطری مالک قرار دے دیا۔ چامراج نگر ناگرک منچ نے عیدگاہ میدان کے احاطہ میں ۱۵؍اگست کو یوم آزادی منانے کیلئے درخواست پیش کی تھی۔ کچھ مہینے قبل جب بی بی ایم پی نے وقف سے متعلق دستاویز جمع کرنے کو کہا تو تنازعہ ختم ہو گیا تھا۔

bengaluru Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK