Inquilab Logo

اسرائیلی جنگی کابینہ کے اہم رکن بینی گینز نے استعفیٰ دیدیا

Updated: June 11, 2024, 11:47 AM IST | Agency | Tel Aviv-Yafo

جنگ کے حوالے سے اسرائیلی کابینہ میں شدید اختلاف ، بینی گینز کا نیتن یاہو پر اسرائیل کو فتح کی طرف بڑھنے سے روکنے کا الزام، ایک اوروزیر گیڈی ایزن کوٹ بھی مستعفی۔

Israeli War Cabinet Minister Benny Gaines (hands on Netanyahu`s shoulders) has left the government. Photo: INN
اسرائیلی جنگی کابینہ کے وزیر بینی گینز(نیتن یاہو کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ) نےحکومت چھوڑ دی ہے۔ تصویر : آئی این این

اسرائیل کی جنگی کابینہ کے ایک اہم رکن اور سابق وزیر دفاع بینی گینز نے اتوار کوغزہ جنگ کےمتعلق نیتن یا ہو سے اختلافات کے سبب استعفیٰ دے دیا۔ اس استعفیٰ کو اسرائیل میں سیاسی تبدیلی کےاشارے کے طورپر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف احتجاج کا دائرہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ بینی گینز نے غزہ کیلئے جنگ کے بعد کے منصوبے کو نیتن یاہو کی جانب سے منظور کرانے میں ناکامی کے بعد ہنگامی طور پر کابینہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے نیتن یاہوپر اسرائیل کو فتح کی طرف بڑھنے سے روکنے کا بھی الزام لگایا۔ ان کے جانے سے یاہوحکومت کا جو مذہبی اور قوم پرست جماعتوں پر مشتمل اتحادہے، تختہ الٹنے کا امکان نہیں ہے لیکن حماس کے خلاف جنگ کے ۸؍ ماہ بعد نیتن یاہو کیلئے یہ پہلا بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ واضح رہےکہ اتحادی حکومت کو ۱۲۰؍ سیٹوں پر مشتمل کنیسٹ میں ۶۴؍ سیٹیں حاصل ہیں۔ بینی گانٹز کے علاوہ ایک اور وزیرگی ڈی ایزن کوٹ نے بھی جنگی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے اوراپنے استعفیٰ نامہ میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا ہےکہ خارجی مشوروں سے جنگی کابینہ مفلوج ہوچکی ہے۔ 
  استعفیٰ دینے سے قبل میڈیا کو دئیےگئے ایک بیان میں بینی گانٹز کا کہنا تھا کہ ’ ’نتن یاہو ہمیں حقیقی فتح کی طرف بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھاری دل کے ساتھ حکومت چھوڑ رہے ہیں۔ ‘‘اسرائیلی وزیر اعظم نے چند منٹ کے اندر جواب دیتے ہوئے کہا ’’بینی، یہ محاذ چھوڑنے کا وقت نہیں ہے، یہ فوج میں شامل ہونے کا وقت ہے۔ ‘‘
واضح رہےکہ سنیچر کو اسرائیلی فوج نے غزہ کے نصیرات کیمپ پر خونریز حملہ کیا تھا جس میں ۲۰۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں میں اسرائیل نے اپنے ۴؍ قیدیوں کو بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا ہے اوراس کا ویڈیو بھی جاری کیا ہے۔ ادھر حماس کے القسام بریگیڈ نے کہا ہےکہ اسرائیلی حملے میں اس کے قیدی بھی مارے گئے ہیں۔ ۶۵؍ سالہ بینی گانٹز کو جن کی اتوار کو سالگرہ تھی، یاہو حکومت گرنے کی اور قبل از وقت انتخابات کی صورت میں اتحاد بنانےکیلئے پسندیدہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کی سینٹرسٹ نیشنل یونین پارٹی نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ کو تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے ایک بل پیش کیا تھا۔ سابق آرمی چیف جو جنگی کابینہ میں شامل ہونے سے پہلے نیتن یاہو کے اہم حریفوں میں سے ایک تھے، بار بار نیتن یاہو سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ تمام قیدیوں کی رہائی یقینی بنانے اور اسے ’ترجیح‘ دینےکیلئے ایک معاہدے تک پہنچیں۔ نومبر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل مزید کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے اور غزہ میں اپنی شدید فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ اس مختصر جنگ بندی میں حماس نے کئی اسرائیلی یرغمالوں کورہا کیاتھا جبکہ اسرائیل نے بھی متعدد فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا تھا۔ 
اسرائیلی کمانڈر کا استعفیٰ اور فوج سے بھی سبکدوشی کا اعلان 
 اسرائیلی فوج میں غزہ ڈویژن کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ایوی روزن فیلڈ نے غزہ کے اطراف اسرائیلی بستیوں کے تحفظ کے اپنی زندگی کے مشن میں ناکام ہونے کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور فوج سے سبکدوش ہونے کا بھی اعلان کردیا۔ القسام بریگیڈز نے ۷؍ اکتوبر کر غزہ کے اطراف کی بستیوں پر حملہ کیا تھا جس میں ۱۲۰۰؍ افراد ہلاک ہوئے تھے اور۲۵۰؍سے زائدکویرغمال بنا لیاگیا تھا۔ غزہ ڈویژن کے کمانڈر کی طرف سے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی اور جنوبی ڈویژنل کمانڈر اوری گورڈین کو باضابطہ طور پر ایک خط بھیجا گیا۔ جنرل ایوی روزن نے خط میں کہا کہ’’ میں نے۱۴۳؍ویں ڈویژن (غزہ ڈویژن) کے کمانڈر کا عہدہ ختم کرنے اور فوج سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری اٹھانی ہوگی اور میں ۱۴۳؍ ویں ڈویژن کا ذمہ دار ہوں۔ میں اس وقت تک اسرائیلی غزہ ڈویژن کا سربراہ رہنے کا ارادہ رکھتا ہوں جب تک کہ کسی متبادل کی تقرری نہیں کی جاتی اور قیادت کو منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں منتقل نہیں کردیا جاتا۔ میں تحقیقات میں حصہ لینا جاری رکھوں گاتاکہ جو کچھ ۷؍ اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ دہرایا جا سکے۔ ‘‘اسرائیلی کمانڈر کا استعفیٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی جنگی کمان کونسل کے رکن بینی گانٹز اور ان کی پارٹی کے باقی وزرا نے بغیر کسی وضاحت کے اتوار کو باقاعدہ حکومتی اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا اور بات کی جارہی تھی کہ وہ اتوار کی شام کو ہی اپنے استعفے کا اعلان بھی کریں گے۔ 
 وزیر اعظم نیتن یاہو نے گانٹز کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنے وزراء کے ساتھ ایک میٹنگ میں میں کہا کہ ’’یہ وقت سیاسی اور متعصبانہ وجوہات کی بنا پر تقسیم کا نہیں بلکہ اتحاد کا ہے۔ ہمیں اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جو دشمن ہم سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں ان میں حماس، حزب اللہ، ایران اور اس کے ہتھیار اور مغربی کنارے میں دہشت گرد شامل ہیں۔ ‘‘گانٹز نے یاہو کے اس بیان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بہر حال کچھ ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے قریبی لوگوں کو کہا ہے کہ نیتن یاہو نعرے لگانے میں اچھے ہیں لیکن وہ معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ وہ اتحاد اور ٹیم ورک جیسی چیز کو جانتے تک نہیں۔ نیشنل یونٹی پارٹی کے سربراہ گانٹز۱۸؍ مئی کو غزہ جنگ کے تعلق سے نیتن یاہو کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کیلئے۸؍جون تک کا وقت دیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK