• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برلینالے میں فلسطینی ہدایت کار کا جرات مندانہ موقف، غزہ میں اسرائیلی کارروائی پر تنقید

Updated: February 23, 2026, 1:07 PM IST | Berlin

جرمنی کے برلینالے فلم فیسٹیول میں فلسطینی ہدایت کارنےا جرات مندانہ موقف اختیا ر کرتے ہوئے غزہ پر اسرائیلی کارروائی پر تنقید کی، انہوں نے اپنی تقریر کو فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کے حق میں یکجہتی کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کی فلم ’’کرونیکلز فرام دی سیج‘‘ (محاصرے کی روداد) کو بہترین پہلی فیچر فلم کا ایوارڈ دیا گیا۔

Syrian-Palestinian filmmaker Abdallah Al-Khatib۔ Photo: X
شامی-فلسطینی فلمساز عبداللہ الخطیب۔ تصویر: ایکس

سنیچر کو جرمنی کے دارالحکومت  برلن میں منعقدہ تقریب میں شامی-فلسطینی فلمساز عبداللہ الخطیب نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ان تمام لوگوں کو یاد رکھیں گے جو ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ہم ان تمام لوگوں کو بھی یاد رکھیں گے جو ہمارے خلاف ہوئے، جو باوقار زندگی گزارنے کے ہمارے حق کے خلاف تھے، یا جنہوں نے خاموشی اختیار کی۔ فلسطین آزاد ہو، اب سے لے کر دنیا کے اختتام تک۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے جرمن حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’ وہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی میں شریک کار ہے۔‘‘ الخطیب اسٹیج پر فلسطینی پرچم لے کر آئے اور کہا کہ ایک دن ’’غزہ میں ایک عظیم الشان فلم فیسٹیول‘‘ منعقد ہوگا جو دنیا کے تمام مظلوموں سے منسوب ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: تیونس میں بازار سے کیلے غائب! فی کلو قیمت ۷؍امریکی ڈالر پہنچی!

واضح رہے کہ اس سے قبل، بہترین شارٹ فلم کا گولڈن بیئر ایوارڈ جیتنے والی لبنانی ہدایت کار میری روز عوستہ نے بھی اسٹیج پر اسرائیل کی نسل کشی پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ غزہ، پورے فلسطین اور لبنان کے بچوں کے پاس  ئی سپر پاور نہیں ہے جو اسرائیلی بم سےانہیں بچا سکے۔ کسی بھی بچے کو ایسی نسل کشی سے بچنے کے لیے سپر پاور کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے جو ویٹو پاورز اور بین الاقوامی قانون کے خاتمے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔‘‘عوستہ نے مزید کہا کہ ’’غزہ اور لبنان دونوں میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری ہے‘‘
دراصل غزہ میں دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں بیشتر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اس نسل کشی کی مختلف عالمی شخصیات نے مذمت کی ہے، ان میں فلمی صنعت سے وابستہ متعدد افراد شامل ہیں۔ الخطیب کا یہ بیان اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK