• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیونس میں بازار سے کیلے غائب! فی کلو قیمت ۷؍امریکی ڈالر پہنچی!

Updated: February 23, 2026, 11:19 AM IST | Tunisia

تیونیشیا کے دارالحکومت میں  بڑھتی مہنگائی اور کالابازاری کے سبب رمضان کے ایام میں  یہ پھل دسترخوانوں پر کم کم دکھائی دے رہا ہے۔

File photo of a fruit vendor`s stall in Tunisia. Photo: INN
تیونس کے ایک پھل فروش کے ٹھیلے کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

تیونیشیا کے دارالحکومت کے بازاروں  سے کیلا ایک بار پھر غائب ہوگیا ہے۔ رمضان کے ایام میں اس پھل کی کمی کے سبب اس کے دام میں  اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔ غیرملکی خبررساں  ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک کلو کیلے کی قیمت ۲۰؍تیونسی دینار(۷؍امریکی ڈالر) ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رمضان کے دوران تیونس کے روزہ دار بازاروں میں گھومتے نظر آتے ہیں، مگر کیلا کہیں دکھائی نہیں دیتا، جو سپلائی اور تقسیم کے نظام میں خرابی اور اسمگلروں کے اثر و رسوخ کے باعث کئی ماہ سے بیشتر گھروں سے غائب ہے۔ 
رمضان میں کیلے کی مانگ تیونسی عوام کے لئے ایک بنیادی پھل کے طور پر بڑھ جاتی ہے، لیکن بازاروں میں شدید قلت کے باعث صرف محدود مقدار ہی کچھ ایسے مقامات پر دستیاب ہے، جو سرکاری نگرانی سے باہر ہیں۔ تیونس کیلا مکمل طور پر درآمد کرتا ہے کیونکہ ملک میں اس کی پیداوار نہیں ہوتی۔ اگرچہ عالمی سطح پر کیلا ایک سستا اور عام پھل سمجھا جاتا ہے، مگر اس سال تیونس کی منڈیوں میں یہ امیروں کا پھل بن گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کولمبیا میں ’ اے آئی‘ پارلیمانی الیکشن میں اُمیدوار

غیر منظم فروخت کے مقامات بنیادی طور پر اسمگل شدہ کیلے پر انحصار کرتے ہیں، جہاں ایک کلو کی قیمت۲۰؍ تیونسی دینار (تقریباً۷؍ امریکی ڈالر) سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت تقریباً۲۰۰؍ ڈالر سے زیادہ نہیں۔ کیلے کی یہ قیمت دنیا کی بلند ترین قیمتوں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ یورپی یونین کے ممالک میں جو قریب ترین تیونسی شہر سے صرف تقریباً۱۵۰؍ کلومیٹر دور ہیں ، اس کی قیمت عموماً۱ء۵؍ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ 
اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم خوراک و زراعت کی تنظیم(ایف اے او) کے مطابق حالیہ برسوں میں عالمی کیلا تجارت نسبتاً بلند سطح پر رہی ہے اور سالانہ تقریباً۲؍کروڑ ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ تیونس کی وزارتِ تجارت نے کیلے کی تقسیم میں خرابی کو لاجسٹک وجوہات قرار دیا ہے۔ تاہم یہ پہلا رمضان نہیں جس میں مقامی بازاروں میں کیلا نایاب ہوا ہو۔ دارالحکومت کے قریب واقع التحریر محلے کے ایک ۶۰؍ سالہ پھل فروش نے ’ڈی پی اے‘کو بتایا:اس سال کیلا موجود نہیں۔ اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ غیر حقیقی قیمتیں مسلط نہیں کی جا سکتیں، قیمتیں تو طلب اور رسد کے قانون سے طے ہوتی ہیں۔ پچھلے سال رمضان میں حکومت کو مصر سے بڑی مقدار میں اور کم پیمانے پر جنوبی امریکہ اور دیگر ممالک سے کیلے درآمد کرنا پڑے اور فروخت کی قیمت۱ء۷؍سے۲ء۵؍ ڈالر کے درمیان مقرر کی گئی۔ تاہم قیمتوں پر کنٹرول کے بعد درآمد کنندگان نے مطلوبہ مقدار میں سامان لانے سے گریز کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK