ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے پیر کو کہا کہ بینکاری نظام پر کسی قسم کا وسیع یا سسٹمیٹک خطرہ موجود نہیں ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے واضح کیا کہ وہ کسی انفرادی بینک یا ضابطہ کار ادارے پر تبصرہ نہیں کرتا۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 3:26 PM IST | Mumbai
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے پیر کو کہا کہ بینکاری نظام پر کسی قسم کا وسیع یا سسٹمیٹک خطرہ موجود نہیں ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے واضح کیا کہ وہ کسی انفرادی بینک یا ضابطہ کار ادارے پر تبصرہ نہیں کرتا۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے پیر کو کہا کہ بینکاری نظام پر کسی قسم کا وسیع یا سسٹمیٹک خطرہ موجود نہیں ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے واضح کیا کہ وہ کسی انفرادی بینک یا ضابطہ کار ادارے پر تبصرہ نہیں کرتا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب آئی ڈی ایف سی بینک کے چندی گڑھ برانچ میں ۵۹۰؍ کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا انکشاف کیا ہے۔
قومی دارالحکومت میں آر بی آئی کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں آر بی آئی کے گورنرسنجے ملہوترا نے کہا کہ مرکزی بینک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن مالی استحکام کو کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک میں ۵۹۰؍ کروڑ روپے کی دھوکہ دہی سے متعلق خبروں پر ایک سوال کے جواب میں ملہوترا نے کہا کہ مرکزی بینک پوری طرح چوکس ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم کسی انفرادی بینک یا ضابطہ کار ادارے پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہاں کسی قسم کی سسٹمیٹک مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ یہ پریس بریفنگ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی آر بی آئی بورڈ کے ساتھ میٹنگ کے بعد منعقد کی گئی تھی۔گورنر نے کہا کہ ہندوستان کا بینکاری نظام مضبوط حالت میں ہے، جسے مناسب سرمائے اور لیکویڈیٹی کی حمایت حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بینکوں کا کیپٹل ایڈیکویسی ریشو (سی اے آر) اس وقت تقریباً ۱۷؍ فیصد ہے، جو ایک مضبوط سطح سمجھی جاتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آئندہ پانچ برسوں میں نئی سرمایہ کاری نہ بھی کی جائے تو بھی بینک اپنی سرمائے کی ضروریات پوری کرنے کے قابل رہیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:میکسیکو: کارٹیل لیڈر ہلاک،ہندوستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت
دریں اثنا، گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی معلومات میں بینک نے کہا کہ یہ معاملہ چندی گڑھ برانچ میں ہریانہ حکومت سے منسلک چند کھاتوں تک محدود ہے۔ بینک نے بتایا کہ اس نے ریگولیٹرز کو اس کی اطلاع دے دی ہے اور پولیس میں شکایت بھی درج کرا دی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک چار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔اس پیش رفت کے بعد پیر کو ابتدائی کاروبار میں آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے حصص میں ۲۰؍ فیصد کی کمی آئی اور لوئر سرکٹ لگ گیا۔
یہ بھی پڑھئے:رنجی فائنل: میزبان کرناٹک کا مقابلہ تاریخ رقم کرنے کے لئے پر عزم جموں و کشمیر سے ہوگا
دن کے کاروبار کے دوران بینک کا شیئر ۲۰؍ فیصد گر کر ۸۰ء۶۶؍ روپے تک پہنچ گیا۔ شیئر کی شروعات ۱۰؍ فیصد کی گراوٹ کے ساتھ ہوئی تھی اور بعد میں نقصان مزید بڑھ گیا۔تاہم بعد میں کچھ بہتری دیکھی گئی اور دوپہر تقریباً ڈھائی بجے شیئر ۱۲ء۱۶؍ فیصد کی کمی کے ساتھ ۰۵ء۷۰؍ روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔