بزرگوں ، مریضوں ، خواتین اور اسکولی بچوں کودشواریوں کے تعلق سے مقامی شخص ۴؍ سال سے حکومت اور پولیس سے تحریری شکایتیں کررہا ہے۔ عدالت سے بھی رجوع کیا۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 1:01 PM IST | Mira road
بزرگوں ، مریضوں ، خواتین اور اسکولی بچوں کودشواریوں کے تعلق سے مقامی شخص ۴؍ سال سے حکومت اور پولیس سے تحریری شکایتیں کررہا ہے۔ عدالت سے بھی رجوع کیا۔
یہاں نیانگر علاقے میں رمضان المبارک میں شام کے وقت زبردست بھیڑ رہتی ہے جس کے پیش نظر گزشتہ چند برسوں سے پولیس کی جانب سے ٹریفک کے انتظامات کئے جاتے ہیں اور بیریکیڈ لگاکر مخصوص اوقات میں گاڑیوں کی آمدو رفت پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔ اس کے خلاف مقامی معمرشخص نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ سے کئی مرتبہ شکایتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خاص طورپر معمر افراد، خواتین، معذوروں، طلبہ اورکام سے آنے والے لوگوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ شکایتوں کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس لئے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا ہے۔
رمضان المبارک شروع ہوتے ہی پولیس کی جانب سے نیا نگر میں نہال کارنر سےحیدری چوک اور لودھا روڈ پر محمدی مسجد تک بریکیڈ لگاکر گاڑیوں کی آمدورفت شام ۴؍ بجے سےرات ۱۲؍ بجے تک روک دی جاتی ہے۔ گاڑیوں کیلئے متبادل راستے دیئے جاتے ہیں جس میں بیک روڈ ، پوجانگر روڈ اور دیگر راستے شامل ہیں۔ اس بارے میں نیانگر میں بانیگر اسکول کے قریب واقع عمارت میں رہائش پزیر ۶۰؍ سالہ امتیاز خان نے اس نمائند ے کو بتایا کہ’’رمضان المبارک میں سڑکوں پر بیریکیڈ لگانے سے خاص طورپر بزرگوں ، خواتین، اپاہج، اسکولی بچوں اور آفس سے آنے والوں کو شام میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ رکشا کی آمدورفت پر بھی پابندی عائدہوتی ہے جس سے رکشا والے وہاں تک نہیں لے جاتےجس کی وجہ سے مجبوراً انہیں پیدل اپنے گھر تک پہنچنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو کیا مریض کو کندھے پر اٹھاکر لے جایا جائے گا؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ایک مہینے تک لوگ جیسے اپنے گھروں میں قید ہوجاتے ہیں۔ یہ تکلیف صرف ہاکرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ انتظامات صرف دو لوگوں ’خریدار اور ہاکرس ‘کودھیان میں رکھ کرکئے گئے ہیں لیکن ہم جیسے عام لوگوں کو اس سے پریشانی ہی پریشانی ہے۔ ریلوے اسٹیشن سے اتنی دور پیدل آنا پڑتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہاکرس کو کہیں اور ایڈجسٹ کیا جاتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۲؍ماہ بعد بھی لیبارٹری رپورٹ نہ ملنے سےکاروبار متاثر
امتیاز خان نے اس بارے میں تحریری شکایتیں لوک آیوکت، ہائی کورٹ رجسٹرار، میونسپل کمشنر، پولیس کمشنر اور مقامی عوامی نمائندوں سے بھی کی ہیں۔ وہ تقریباً ۴؍ سال سے اس تعلق سے شکایتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال شکایت پر ہیومن رائٹس کمیشن کے افسر نے تین چار مہینے قبل یہاں آکر معائنہ بھی کیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے مقامی افراد بھی سڑکوں پر اس طرح بریکیڈنگ کے خلاف ہیں۔
نیانگر میں نریندرپارک سے متصل ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ بیریکیڈنگ سے خاص طورپر مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں اندر جانے کیلئے رہائشی ثبوت اور دیگر دستاویز دکھانے کو کہا جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔ ویسے عام لوگوں کیلئے یہ اچھا ہے کیونکہ زبردست بھیڑ ہوتی ہے جس سے گاڑیوں سے حادثات کا اندیشہ رہتا ہے۔
رمضان المبارک میں علاقے میں نظم ونسق کے تعلق سے میرابھائندر کے ڈپٹی پولیس کمشنر (زون ایک )راہل چوان نے محلہ کمیٹی کی میٹنگ کا انعقاد ۱۹؍فروری سے قبل کیا تھا جس میں انہوں نےٹریفک اور ہاکرس کے مسئلہ کے تعلق سے بتایا تھاکہ اس بارے میں انتظامات کئے گئے ہیں اور جہاں بھیڑبھاڑ ہوگی، وہاں بیریکیڈنگ کی جائے گی۔