بی ایم سی اور پولیس مینارہ مسجدجنکشن،محمدعلی روڈ ،ناخدامحلہ اور اطراف کےعلاقوںمیں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پرکاروبار کرنے نہیں دے رہے ہیں ۔
محمدعلی روڈ کا فٹ پاتھ جہاں خریداروں کی زبردست بھیڑ رہتی تھی ، ایک بھی ہاکر نظر نہیں آرہا ہے۔تصویر:آئی این این
یہاں مینارہ مسجد، محمدعلی روڈ ، ناخدامحلہ اور اطراف کےعلاقوںمیںعام دنوں اور رمضان المبارک میں خاص طورپر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پرہاکرس کو بی ایم سی اور پولیس عدالت کے حکم کا حوالہ دے کرکاروبار کرنےنہیں دے رہے ہیں جس سے سیکڑوں ہاکرس پریشان ہیں۔ جن دکانداروں کے پاس فٹ پاتھ پر کاردبار کرنے کا ۴۰، ۵۰؍ ؍ سال پرانی بی ایم سی کی رسید ہے، انہیں بھی کاروبارکی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔علاوہ ازیں کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پاس بی ایم سی کا باقاعدہ لائسنس ہے ،انہیں بھی تکنیکی کمیوں کاجواز پیش کرکے کاروبار کرنے سے منع کیا جارہاہے۔ ان علاقوں میں دکانیں بند ہونے سے رمضان المبار ک کی رونقیں ماند پڑگئی ہیں۔
محمدعلی روڈپر مٹھائیوں کی معروف دکان کے مالک نے کہا کہ ’’ امسال بی ایم سی اور پولیس محکمہ زیادہ سختی کررہا ہے۔ فٹ پاتھ اور سڑکوںپر کاروبار کرنے والو ںسے قطع نگاہ دکانداروں کےساتھ سخت رویہ اپنا یاگیاہے۔ انہیں بھی دکان کے آگے کی جگہ استعمال کرنے سےمنع کیاگیاہے جس کی وجہ سے انہیں رمضان المبارک میں کاروبار کرنے میں سخت دقت پیش آرہی ہے۔ ‘‘
مینارہ مسجد جنکشن پر برسوںسے کاروبار کرنے والے ایک پھیری والے نے کہاکہ سال بھر رمضان المبارک کاانتظار رہتاہے۔ اس مہینےمیں کچھ زیادہ آمدنی ہوجاتی ہے جس سے ہم اپنے بال بچوںکی ضروریات پوری کرلیتےہیں ۔ اس مہینے سے بڑی اُمیدہوتی ہے لیکن شہری انتظامیہ اورپولیس کے سخت رویے سے کاروبار نہیں کرپارہا ہوں۔ ماہ ِ صیام کی مناسبت سے جتنی جمع پونجی تھی، اس کا مال خرید لیا ہے ،اگر کاروبارکی اجازت نہیں ملی تو سارا مال خراب ہوجائے گا جس کا نقصان بھی بھگتناہوگا۔ ‘‘
ناخداہ محلہ ،بیگ محمد پارک کے قریب کے ایک لائسنس یافتہ دکاندارنے بتایاکہ’’ میرے پاس لائسنس ہونےکےباوجود پائیدھونی پولیس اسٹیشن والے مجھے ایک مہینے سے کاروبار کرنےکی اجازت نہیں دے رہےہیں۔ ہم نے جب پائیدھونی پولیس اسٹیشن جاکر سارے دستاویزات دکھائے تو ہم سے کہاگیاہےکہ بی ایم سی جاکر لائسنس کی تصدیق کرائی جائے ۔ بی ایم سی جب کاروبار کرنےکی اجازت دے گی تب ہی دکان کھولنےکی اجازت دی جائے گی۔‘‘
مقامی کارپوریٹر رخسانہ نورالامین پاریکھ نے اس نمائندے کوبتایاکہ ’’ ہم توچاہتے ہیں کہ ان علاقوںمیں رمضان المبارک کی قدیم روایت برقرار رہے۔جس طرح سے یہاں دکانیں لگائی جاتی ہیں، وہ لگائی جائیں لیکن پولیس اور بی ایم سی کورٹ کے آرڈر کا حوالہ دے کر فٹ پاتھ اور سڑک پرکاروبار کرنےنہیں دے رہی ہے، اس کےباوجود ہم کوشش کررہےہیں کہ جن لائسنس یافتہ دکانداروں کو کاروبار نہیں کرنے دیاجارہاہے ،انہیں کاروبار کی اجازت دی جائے ۔ اس کیلئے پیر کو ہم نے بی وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر یوگیش دیسائی سے تحریری اپیل کی ۔ انہوںنے اس معاملہ کی تحقیق کرکے انہیں کاروبار کرنےکی اجازت دینےپر غورکرنےکی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ‘‘
مقامی سماجی کارکن سعدیہ مرچنٹ کے مطابق ’’ ان علاقوںمیں ایک زمانے سے رمضان المبارک میں دکانیں لگائی جارہی ہیں ۔ ٹریفک یا دیگر شہری مسائل اس وقت بھی تھے۔ گزشتہ سال بھی رمضان المبارک کے ابتدائی دنوںمیںفٹ پاتھ پرہاکرس کو کاروبار کرنے سےمنع کیاگیا تھا لیکن بعد میں اجازت دے دی گئی تھی لیکن امسال بڑی سختی کی جارہی ہے۔ ایسےمیں مقامی سیاسی اور سماجی کارکنان ، بی ایم سی اور پولیس محکمہ سے اس مسئلہ کو حل کرنےکیلئے کیا پیش رفت کررہے ہیں۔ کیا انہیں ایسانہیں محسوس ہوتاکہ ان چھوٹے کاروباریوں کو رمضان المبارک میں کاروبار کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔‘‘
بی وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر یوگیش دیسائی سے استفسار کرنےپر انہوںنےکہاکہ تحریری طورپر ہم نے کسی طرح کی کارروائی کرنےکاآرڈر جاری نہیں کیاہے لیکن کورٹ کا جو آرڈر ہے ،بس پر اس پرعمل کیاجارہاہے۔ لائسنس یافتہ دکانوںکو بند کرنےکابھی ہم نے کوئی آرڈر نہیں دیاہے۔ اگر پولیس نے دکان بند کرائی ہے تو اس کی ذمہ داری پولیس کی ہے۔ اس طرح کا جواب دےکر انہوں نے مزید گفتگو کرنے سےمعذرت کرلی۔ ‘‘