• Tue, 24 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مودی سرکار پر ہند-امریکہ معاہدہ کی شرائط میں تبدیلی کا دباؤ

Updated: February 24, 2026, 11:00 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف کے محاذ پر ٹرمپ کے پر کتر دیئے ہیں، ہندوستان کیلئے روسی تیل کی خریداری کا راستہ بھی کھل سکتاہے۔

The Modi Government Has Been Under Pressure Since Day One Due To The Terms Of The Indo-US Trade Deal.Photo:INN
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کی شرائط کی وجہ سے روز اول سے مودی سرکار دباؤ کا شکار ہے۔ تصویر:آئی این این

ٹرمپ کی ’’ٹیرف غنڈہ گردی‘‘ کے خلاف امریکی سپریم کورٹ  کے تاریخی فیصلے نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ میں  ہندوستان کو بالادستی کا موقع فراہم کردیا ہے جس کے بعد مودی سرکار معاہدہ کی شرائط میں تبدیلی کا دباؤ بڑھ رہاہے۔ نئی دہلی  اور واشنگٹن   میں جو عبوری معاہدہ فی الحال طے پایا ہے،اس کی شرائط کی وجہ سے حکومت پر ٹرمپ کے دباؤ کے آگے سرتسلیم خم کرنے  کا الزام عائد ہورہا ہے۔ 
ٹیرف سے متعلق  امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ    امریکہ ہی نہیں روس سے  بھی ہندوستان  کی درآمدات پر اثر انداز ہوسکتاہے۔ اس پس منظر میں  معاہدہ کے متن کو حتمی شکل دینے کیلئے  ہندوستانی وفد کے ۲۳؍تا۲۵؍ فروری  امریکی دورہ کی منسوخی  کو امید کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے۔ 
تجارت اور قانونی ماہرین کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ  اگر  نئی دہلی روسی تیل بڑی مقدار میں خریدتا  ہے تو صدر ٹرمپ کے پاس اب ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت وہ ہندوستان  پر ٹیرف لگا سکیں۔  اس لئے ٹیرف کی دھمکی ختم ہونے کے بعد  ہندوستان ایک بار پھر نسبتاً مہنگا امریکی تیل خریدنے کی مجبوری سے باہر آسکتا ہے۔گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اور سابق  ڈائریکٹر جنرل آف فارین ٹریڈ، اجے سریواستو نے  بتایاکہ’’اب باہمی ٹیرف ختم ہو گئے ہیں اور امریکہ کے پاس ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت وہ روسی تیل خریدنے پر جرمانہ عائد کرسکے۔” انہوں نے کہا کہ ’’ ہم  بھلے ہی  امریکہ  سےتیل کی درآمدات جاری رکھیں جو گزشتہ چند ماہ میں تقریباً دوگنی ہو چکی  ہے لیکن  ہمیں وینزویلا سے تیل خریدنے سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘
قانونی ماہر رمیش کے ودیا ناتھن   کے مطابق ٹیرف کی واپسی تو ہوسکتی ہےلیکن اس کیلئے  اب امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ’’متعدد قانونی طریقہ کار ہیں جن کے ذریعہ صدر ایسا کر سکتے ہیں، لیکن  یہ  واضح  ہے کہ وہ صدارتی احکامات کے ذریعے ایسا نہیں کر سکتے۔ انہیں اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کیلئے اب  قانون سازی کی حمایت درکار ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’حسینہ مان جائے گی‘‘ کا سیکوئل زیرِ غور، فرہاد سامجی ہدایتکار

روزنامہ’’دی ہندو‘‘کے تجزیہ کے مطابق دسمبر۲۰۲۵ء میں ہندوستان کی روس سے خام تیل کی درآمدات۳۸؍ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ دوسری طرف امریکہ سے تیل کی درآمدات دسمبر۲۰۲۴ء کے مقابلے میں تقریباً  ۳۱؍ فیصد بڑھ گئیں۔تجزیے میں یہ بھی پایا گیا کہ بھارت نے دسمبر۲۰۲۵ء میں امریکہ سے تیل اوسطاً ۵۰۶ء۷؍  ڈالر فی ٹن کے حساب سے درآمد کیاجو  روس سے درآمد کئے گئے تیل کی اوسط قیمت سے تقریباً۸؍ فیصد زیادہ ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی افتتاحی جوڑی کا اوسط عمان اور کنیڈا سے بھی بدتر

معاہدہ کی شرائط میں تبدیلی  کے حوالہ سے  ہندوستانی ایکسپورٹرس کی تنظیم ’’ای ای پی سی‘‘ کے چیئرمین پنکج چڈھا نےزور دیکر کہاکہ’’ ہندوستان کو انتظار اور مشاہدے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے والے دوسرے ممالک کس طرح ردعمل دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے موجودہ معاہدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ معاہدہ دو طرفہ ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ انہیں بھی ہمیں کچھ دینا ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK