دہلی میں بھیماکوریگاؤں کی حکمت عملی دہرائی جارہی ہے

Updated: September 16, 2020, 7:50 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

عمر خالد کے والد کا الزام، بتایا کہ پولیس نےہر پوچھ تاچھ میں پختہ ثبوت نہ ہونے کا اعتراف کیا پھر بھی گرفتار کرلیا

Qasim Rasool Ilyas
قاسم رسول الیاس

ہلی فساد کی سازش  کے الزام میں اپنے بیٹے  عمر خالد کی گرفتاری کی  مذمت کرتے ہوئے سید قاسم رسول الیاس نے کہا ہے کہ ’’یہ متحرک سماجی کارکنوں کو ٹھکانے لگانے اور حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔  جن لوگوں  نے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آرسی کے خلاف مظاہروں میں شرکت کی ان  کےخلاف  پولیس جھوٹی کہانی تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے جن میں عمر خالد  بھی شامل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مگرحقیقت میں فسادات کے پیچھے کون تھا یہ سب لوگ جانتے ہیں۔‘‘ 
 قاسم رسول  الیاس نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس اسی حکمت عملی پر کام کررہی ہے جس حکمت عملی کو بھیماکورے گاؤں کیس میں استعمال کیاگیا۔  الزام  ہے کہ بھیما کوریگاؤں   کے تشدد  کے اصل ملزمین کو گرفتار کرنے  کے بجائے پونے پولیس نے   معروف سماجی کارکنان کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔  
  قاسم  رسول کے مطابق’’دہلی پولیس وہی دہرارہی ہے جوبھیما کوریگاؤں  تشدد کی جانچ میں دو سال سے ہورہاہے۔ وہ کسی بھی پختہ ثبوت کے  بغیر سماجی کارکنان کو گرفتار کررہے ہیں اوران پر یو اے پی اے لگارہے ہیں۔ا س کیس میں دہلی پولیس بھی بالکل اسی طرح کام کررہی ہے۔ انہوں  نے جتنی بار بھی عمر خالد سے پوچھ تاچھ کی اتنی بار یہ کہا کہ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے اس کے بعد بھی انہوں نے اسے گرفتار کرلیا۔‘‘

 ایک   وضاحت

منگل ۱۵؍ ستمبر کے شمارے میں’’تمام الزامات بے بنیاد: قاسم رسول‘‘ کے عنوان سے شائع  خبر کی دوسری سطر میں لفظ’ گرفتاری‘ چھوٹ گیا ہے۔ اس جملے کو اس طرح پڑھیں’’عمر خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس  نے  دہلی فساد کے الزام میں اپنے بیٹے کی گرفتاری کی  شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ....‘‘   ادارہ کو اس سہو پر افسوس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK