Updated: March 18, 2026, 10:13 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل نے اپنی فوج کو ایرانی حکام کو موقع پر قتل کرنے کے حکم دے دیا ہے، اس حکم کے مطابق فوج کسی بھی سینئر ایرانی اہلکار کو، جس کے لیے انٹیلی جنس اور آپریشنل دائرہ مکمل ہو جائے، بغیر اضافی منظوری کے قتل کر سکتی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی بدلے کی دھمکی دی ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
ایران اور اسرائیل کے مابین بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان اسرائیل نے اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ بغیر مزید منظوری کے کسی بھی سینئر ایرانی اہلکار کو قتل کر سکتی ہے۔ یہ حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے تہران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا، وزیر اعظم نیتن یاہو اور میں نے آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی سینئر ایرانی اہلکار کو، جس کے لیے انٹیلی جنس اور آپریشنل دائرہ مکمل ہو جائے، بغیر اضافی منظوری کے ختم کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں ماہرین کی تعیناتی، سینڈرز کی جنگی اخراجات پر سخت تنقید
واضح رہے کہ یہ احکامات اس دعوے کے بعد آئے ہیں کہ اسرائیل نے ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر خطیب کو بھی ہلاک کر دیا، تاہم ایرانی حکام نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر علی لاریجانی اور بسیج نیم فوجی دستہ کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے علی لاریجانی کی ہلاکت کو ایرانی عوام کو اپنے حکمرانوں کو ہٹانے کا موقع دینے کی کوشش قرار دیا۔ دوسری جانب، لاریجانی کی ہلاکت کے بدلے میں ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس میں تل ابیب کے قریب دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاسداران انقلاب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید کارروائیوں کی دھمکی دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان
بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر۱۰؍ ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔