لاس اینجلس میں منعقدہ ۹۸؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ’’اِن میموریم‘‘ حصے پر شدید تنقید بھی سامنے آئی، جہاں کئی نمایاں شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا گیا۔
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 10:15 PM IST | Los Angeles
لاس اینجلس میں منعقدہ ۹۸؍ ویں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ’’اِن میموریم‘‘ حصے پر شدید تنقید بھی سامنے آئی، جہاں کئی نمایاں شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا گیا۔
۱۵؍ مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں کئی فنکاروں کو ان کی بہترین کارکردگی پر اعزازات سے نوازا گیا، لیکن ’’ان میموریم‘‘ سیگمنٹ تنازع کا مرکز بن گیا۔ اس حصے کا مقصد گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا سے رخصت ہونے والی فلمی شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا، تاہم اس میں کئی بڑے نام شامل نہیں کیے گئے، جس پر ناظرین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ خاص طور پر بھارتی لیجنڈ دھرمیندرکا نام شامل نہ ہونا سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔ ان کی اہلیہ ہیما مالنی نے بھی اس پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسے بڑے فنکار کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایل پی جی بحران پر اکشے کمار کا ردعمل، ٹوئنکل کھنہ نے انڈکشن چولہے منگوا لئے
دوسری جانب، براہ راست نشریات میں شامل ناموں میں رابرٹ ریڈ فورڈ، رابرٹ ڈویل، ڈیائن کیٹن اور روب رینر جیسے عالمی شہرت یافتہ فنکار شامل تھے، تاہم ناظرین کا کہنا تھا کہ فہرست نامکمل اور غیر متوازن محسوس ہوئی۔ اس تنازع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے والٹ ڈزنی ٹیلی ویژن کے براڈکاسٹ ایگزیکٹو روب ملز نے اس سیگمنٹ کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ شاید سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ ہر سال کچھ نام رہ جاتے ہیں کیونکہ ہم زیادہ سے زیادہ لیجنڈز کو کھو رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، ’’ان میموریم‘‘ کو ترتیب دینا ایک پیچیدہ عمل ہے اور ٹیم نے اس بار بہترین ممکنہ کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کی پہلی جھلک جاری
انہوں نے مزید کہا کہ بڑے فنکاروں کے انتقال کے بعد اس حصے کو متوازن اور جامع بنانا ایک چیلنج ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود ٹیم نے اسے خوبصورتی سے پیش کرنے کی کوشش کی۔ تقریب کی میزبانی کونن او برائن نے کی جبکہ فلمساز پال تھامس اینڈرسن کی فلم نے چھ ایوارڈز جیت کر رات پر غلبہ حاصل کیا۔