Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: دکان کے سامنے ہاتھ گاڑی کھڑی کروانے پر ۱۰؍ ہزار روپے جرمانہ!

Updated: August 08, 2026, 1:38 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

میئر کا دکانداروں کو سخت انتباہ، جرمانہ ادا نہ کیا تو دکان سیٖل کر دی جائےگی۔

The mayor has warned of strict action against shopkeepers who park their vehicles in front of their shops. Photo: INN
میئر نے دکانوں کے سامنے ہاتھ گاڑیاں کھڑی کروانے والے دکانداروں کیخلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ تصویر: آئی این این

شہر میں دکانوں کے سامنے سبزی، ترکاری اور دیگر سامان فروخت کرنے والی ہاتھ گاڑیاں کھڑی کروا کر مبینہ طور پر رقم وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف اب میونسپل انتظامیہ نے سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ میئر نارائن چودھری نے دکانداروں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دکان کے سامنے ہاتھ گاڑی کھڑی کرنے والے متعلقہ دکاندار پر ۱۰؍ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دکان سیٖل کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی۔

میئر نارائن چودھری نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں بعض دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے سبزی، ترکاری اور دیگر سامان فروخت کرنے والی ہاتھ گاڑیاں کھڑی کرواتے ہیں اور بعض معاملات میں ان گاڑی والوں سے اس کے عوض رقم بھی وصول کرتے ہیں۔ اس طرح عوامی سڑک اور راستے کے ایک حصے کو ذاتی آمدنی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ پیدل چلنے والے شہریوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سڑک کسی دکاندار کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ کسی بھی کاروباری شخص کو دکان کے سامنے عوامی راستے پر ہاتھ گاڑی کھڑی کروا کر اس کے عوض رقم وصول کرنے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے شہر میں ٹریفک کا مسئلہ مزید سنگین ہوتا ہے اور سڑکوں پر بدنظمی پیدا ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان: پیدائش و موت کے سرٹیفکیٹ ملنے میں تاخیر

محکمہ ٹریفک اور پولیس کے تعاون سے کارروائی 

میئر نے بتایا کہ ہاتھ گاڑیوں کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹ اور دکانوں کے سامنے جگہ دینے کے عوض رقم وصول کرنے کے معاملے میں محکمہ ٹریفک اور پولیس کے تعاون سے کارروائی کی جائے گی۔ متعلقہ علاقوں میں صورتحال پر نظر رکھی جائے گی اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانہ عائد کیا جائے گا۔انہوں نے دکانداروں کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی دکان کے سامنے سڑک یا فٹ پاتھ پر ہاتھ گاڑیاں کھڑی نہ کروائیں اور نہ ہی ہاتھ گاڑی والوں سے جگہ دینے کے نام پر رقم وصول کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد کسی دکاندار کو بلاوجہ پریشان کرنا نہیں بلکہ عوامی راستوں کو رکاوٹوں سے پاک رکھنا اور شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانا ہے۔

کامت گھر سے کارروائی کا آغاز

میئر کے مطابق دکانوں کے سامنے ہاتھ گاڑیاں کھڑی کروا کر رقم وصول کرنے کے خلاف کارروائی کا آغاز کامت گھر علاقے سے کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ اس کارروائی کو صرف کامت گھر تک محدود نہ رکھتے ہوئے مرحلہ وار پورے بھیونڈی شہر میں نافذ کیا جائے۔شہر کے دیگر تجارتی علاقوں، بازاروں اور مصروف سڑکوں پر بھی اس معاملے کی جانچ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: خطرناک عمارتوں کے نئے اسٹرکچرل آڈٹ کا حکم

شہریوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث 

دکانوں کے سامنے ہاتھ گاڑیوں کے کھڑے ہونے سے صرف ٹریفک ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ بعض مقامات پر پیدل چلنے والوں کو بھی سڑک پر چلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہنگامی حالات میں ایمبولنس، فائر بریگیڈ اور دیگر ضروری خدمات کی گاڑیوں کو راستہ ملنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔شہریوں کے مطابق مخصوص مقامات پر ہاتھ گاڑیوں کے لئے منظم جگہ مقرر کردی جائے تو ایک طرف سڑکوں پر ہونے والی بدنظمی اور ٹریفک کا مسئلہ کم ہوگا جبکہ دوسری جانب چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد کا روزگار بھی متاثر نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK