Updated: September 24, 2026, 7:02 PM IST
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اے آئی سے جڑے انتباہات کو تقویت دیتے ہوئے کہا کہ ”زندگی اور موت کے فیصلے کبھی بھی مشینوں کے سپرد نہیں کئے جانے چاہئیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”قاتل روبوٹس کی ہمارے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔“ فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے اس لمحے کا موازنہ ابتدائی ایٹمی دور سے کرتے ہوئے کہا کہ ”اے آئی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور بدترین صورتحال سے بچنے کیلئے“ اسے ضوابط کے دائرے میں لانا اشد ضروری ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان کی چند سرکردہ کمپنیوں کے سربراہان نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ حکومتوں کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوگے تاکہ اے آئی کو کنٹرول سے باہر اور حد سے زیادہ طاقتور ہونے سے روکا جا سکے۔ اینتھروپک (Anthropic) کے سی ای او ڈاریو اموڈئی نے متنبہ کیا کہ ناقص انتظام کے تحت چلنے والی اے آئی انسانیت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ اوپن اے آئی (OpenAI) کے سی ای او سیم آلٹ مین نے کہا کہ دنیا کے ”مستقبل کا کنٹرول اے آئی کے ہاتھوں کھو دینے“ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ہگنگ فیس (Hugging Face) کے سی ای او کلیمنٹ ڈیلانگو نے بھی کونسل سے خطاب کیا، اگرچہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے ان کا ریموٹ کنکشن متاثر ہوا۔
اموڈئی اور آلٹ مین دونوں نے دلیل دی کہ اے آئی کسی ایک کمپنی یا قوم کے ہاتھوں میں مرکوز نہیں ہونی چاہئے، ساتھ ہی انہوں نے اس کے ممکنہ فوائد کو بھی اجاگر کیا، جن میں لوگوں کی اپنی زندگیوں پر کنٹرول کو وسعت دینا شامل ہے۔ اموڈئی نے خاص طور پر ممالک پر اس بات پر اتفاق کرنے پر زور دیا کہ اے آئی کو حیاتیاتی ہتھیار بنانے کیلئے کبھی استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کنٹرول کے خاتمے اور غلط استعمال سے بچاؤ کیلئے تصدیقی نظام اور مشترکہ ٹیسٹنگ کے معیارات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوروگوئے: پریکسس نامی اسٹارٹ اپ نے اے آئی اور کرپٹو کی طاقت سے لیس شہر کا اعلان کیا
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اے آئی سے جڑے انتباہات کو تقویت دیتے ہوئے کہا کہ ”زندگی اور موت کے فیصلے کبھی بھی مشینوں کے سپرد نہیں کئے جانے چاہئیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”قاتل روبوٹس کی ہمارے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔“ فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے اس لمحے کا موازنہ ابتدائی ایٹمی دور سے کرتے ہوئے کہا کہ ”اے آئی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور بدترین صورتحال سے بچنے کیلئے“ اسے ضوابط کے دائرے میں لانا اشد ضروری ہے۔
تمام حکومتیں آگے کے راستے پر متفق نہیں تھیں۔ برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ اگلے سال اپنی جی۔۲۰ صدارت کے دوران عالمی اے آئی معیارات کے نفاذ پر زور دے گا۔ تاہم، وہائٹ ہاؤس کے سائنسی مشیر مائیکل کریٹسیوس نے کہا کہ کنٹرول کے خدشات کی وجہ سے اے آئی کی ترقی کی رفتار سست نہیں ہونی چاہئے اور نہ اسے نئے عالمی انتظامی ڈھانچوں کا جواز بننا چاہئے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے یو این کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی کو کنٹرول کرنے کی کسی بھی ”عالمگیر اسکیم“ کو ”مکمل طور پر مسترد“ کر دیا، انہوں نے حفاظتی انتباہات کو ماضی کی موسمیاتی تبدیلیوں کی پیش گوئیوں سے تشبیہ دے کر خارج کردیا۔ چینی سفیر فو کانگ نے کہا کہ اقوام کو اپنی اے آئی ٹیکنالوجیز کا انتخاب کرنے کیلئے آزاد رہنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کو’درد‘ ہوتا ہے، تکلیف سے بچنے کیلئے انسانوں کونقصان پہنچاسکتا ہے: تحقیق
اے آئی کی ترقی پر یہ بحث اس وقت سامنے آئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ ایک سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ممکنہ اے آئی حادثات کے ”اطلاعی طریقہ کار“ پر ماضی میں ہونے والے پاک و ہند اور امریکہ-چین مذاکرات کا ذکر کیا۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے علیحدہ طور پر خبردار کیا کہ اے آئی جلد ہی میدانِ جنگ کے نتائج کا فیصلہ کرنا شروع کر سکتی ہے۔