نئے ضابطے کی وجہ سے شہریوں کے ساتھ ملازمین بھی پریشان۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 1:33 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
نئے ضابطے کی وجہ سے شہریوں کے ساتھ ملازمین بھی پریشان۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کی حدود میں ۲۰۱۶ء سے قبل کے پیدائش اور موت کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا عام شہریوں کے لئے ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ شہریوں کو سرٹیفکیٹ کے لئے ڈیڑھ سے ۲؍ ماہ تک کارپوریشن اور ضلع کلکٹر کے دفاترکے چکر کاٹنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ جبکہ ملازمین کو بھی اضافی وقت کام کرنا پڑ رہا ہے۔
مختلف میونسپل کارپوریشنوں میں مبینہ جعلی پیدائش و موت کے سرٹیفکیٹ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ۲۰۱۶ء سے پہلے کے اندراجات کی تصدیق کا طریقہ کار مزید سخت کر دیا گیا۔اس کے مطابق سول رجسٹریشن سسٹم ( سی آر ایس) میں موجود ریکارڈ کے سرٹیفکیٹ تو فوری دے دئیے جاتے ہیں لیکن پہلے کے دور کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے شہریوں کی درخواستیں اور دستیاب دستاویزات کی کاپیاں آن لائن پورٹل پر ضلع کلکٹر آفس کو تصدیق کے لئے بھیجنی پڑتی ہیں۔ اس کے بعد ضلع سطح پر جانچ کر کے فیصلہ لیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: خطرناک عمارتوں کے نئے اسٹرکچرل آڈٹ کا حکم
کے ڈی ایم سی نے ۱۸؍ فروری ۲۰۱۶ء سے سی آر ایس اپنایا تھا۔ اس سے پہلے کے ریکارڈ میونسپل کارپوریشن کے الگ کمپیوٹر سسٹم میں موجود ہیں۔ پہلے ان اندراجات کی بنیاد پر براہ راست سرٹیفکیٹ دے دئیے جاتے تھے لیکن اب ان کے لئے الگ سے تصدیقی عمل لازمی کر دئیے جانے سے تاخیر میں اضافہ ہونے کی بات ملازمین نے بتائی۔ میونسپل کارپوریشن دفتر میں روزانہ کم از کم۸؍ سے ۱۰؍ درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ تاہم پرانی درخواستیں بھیجنے کے لئے صرف ایک ہی لاگ ان آئی ڈی کی سہولت دستیاب بتائی جاتی ہے۔ اسی لاگ ان پر نئے پیدائش و موت کے اندراجات کا کام بھی کرنا پڑتا ہے جس سے دن بھر باقاعدہ کام کاج اور شام کے بعد پرانی درخواستوں کے اندراج کا کام اس طریقے سے ملازمین کو رات دیر تک کرنا پڑ رہا ہے۔
ملازمین کے مطابق ضلع سطح پر بھی محدود لاگ ان سہولت کی وجہ سے درخواستوں کے نمٹارے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ درخواست میں یاریکارڈ میں معمولی فرق پایا جائے تو کئی درخواستیں واپس بھیج دی جاتی ہیں جس سے شہریوں کے کام مزید رکے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے ملازمین اور شہریوں کے درمیان تلخ کلامی اور بحث و مباحثے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیسٹ میں ۱۵۰۰؍ نئی الیکٹرک بسیں ۲۰۲۷ء تک شامل کرنے کا فیصلہ
اس ضمن میں پیدائش و موت کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر سندیپ مکنے نے بتایا کہ پرانے پیدائش و موت کے سرٹیفکیٹ کے لئے روزانہ ۱۰؍ سے ۱۵ ؍درخواستیں آتی ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف ۲؍ سے ۳؍ درخواستوں کا ہی نمٹارا ہو پاتا ہے۔اس لئے درخواست دہندگان کو ڈیڑھ سے ۲؍ مہینے بعد کی تاریخ دینی پڑتی ہے جس سے پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور اسکول میں داخلے کے کام میں تاخیر ہورہی ہے۔شہریوں کی پریشانیوں کو سمجھتے ہوئے بھی ہمارے ہاتھ میں کچھ نہ ہونے کی وجہ سے ہم مجبور ہیں۔