سیاسی صف بندی تیز، کانگریس اور این سی پی نے ان کے اتحاد کو ۵۴؍کارپوریٹروں کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 1:07 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
سیاسی صف بندی تیز، کانگریس اور این سی پی نے ان کے اتحاد کو ۵۴؍کارپوریٹروں کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔
میونسپل کارپوریشن میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے سلسلے میں پیر کے روز نامزدگی داخل کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ میئر کے عہدے کے لئے ۹؍ اور ڈپٹی میئر کے لئے ۶؍ کارپوریٹروں نے میونسپل ہیڈکوارٹر پہنچ کر میونسپل سیکریٹری اجے پاٹل کے سامنے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔ ۳؍ سابق میئر سمیت کئی نئے چہروں کی شمولیت نے انتخابی ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ بعض امیدواروں نے دونوں عہدوں کے لئے نامزدگی داخل کر کے سیاسی قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے، تاہم کاغذات کی واپسی کے بعد ہی حتمی مقابلہ واضح ہوگا۔
میئر کے لئے کونارک وکاس اگھاڑی کے سربراہ اورسابق میئر ولاس پاٹل، ان کی اہلیہ پرتِبھاپاٹل اور فرزند ایڈوکیٹ مَیوریش پاٹل، شندے سینا کے بالارام چودھری اور سابق رکن اسمبلی روپیش مہاترے کی اہلیہ سُچیتا مہاترے، کانگریس کے طارق مومن، بی جے پی کے نارائن چودھری اور سنیہا پاٹل، نیز بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے سربراہ اور سابق میئر جاوید دلوی نے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ بی جے پی کے نارائن چودھری نے ۲؍ سیٹ فارم جمع کرائے، جس کے باعث میئر کیلئے مجموعی طور پر ۱۰؍نامزدگیاں موصول ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے:برٹش میوزیم نے قدیم ڈسپلے سے لفظ ’’فلسطین‘‘ ہٹا دیا
ڈپٹی میئر کے لئے شندے سینا کی اسمتا نائیک، کانگریس کے طارق مومن، بی جے پی کے سہاس نکاتے، بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے جاوید دلوی، سماج وادی پارٹی کے اریب شیخ اور کونارک وکاس اگھاڑی کے ایڈوکیٹ مَیوریش پاٹل نے نامزدگی داخل کی۔ یہاں بھی جاوید دلوی نے ۲؍ سیٹ فارم جمع کرائے جس سے کُل ۷؍ نامزدگیاں درج ہوئیں۔نامزدگیوں کے بعد میونسپل سیاست میں نئی صف بندیاں نمایاں ہو گئی ہیں۔ اگرچہ بی جے پی اور شیوسینا نے اسمبلی اور دیگر انتخابات میں اتحاد کے تحت حصہ لیا تھا، تاہم میونسپل ایوان میں بی جے پی اور شندے سینا آمنے سامنے دکھائی دے رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے مہایوتی اتحاد میں دراڑ کے تاثر کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے الگ الگ امیدواروں کی حمایت اور طاقت کے مظاہرے نے واضح کر دیا ہے کہ مقامی سطح پر مفادات اور قیادت کا سوال اتحاد پر بھاری پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وائی آر ایف اسپائی یونیورس بحران میں؟ ’’ٹائیگر ورسیز پٹھان‘‘ تعطل کا شکار
جاوید دلوی نے واضح کیا کہ وہ شندے سینا کے ساتھ ہیں اور ایکناتھ شندے کی ہدایت پر میئر و ڈپٹی میئر کیلئے نامزدگی داخل کی گئی ہے۔ ان کے مطابق شندے سینا، بھیونڈی وکاس اگھاڑی، کونارک وکاس اگھاڑی اور سماج وادی پارٹی کے کارپوریٹر ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔ادھر کانگریس کے ضلعی صدر عبدالرشید طاہر مومن نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اور این سی پی سمیت ان کے اتحاد کو ۵۴؍ کارپوریٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ اس دعوے نے انتخابی مقابلے کو سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ اب سب کی نگاہیں نامزدگی فارموں کی جانچ اور واپسی کی آخری تاریخ پر مرکوز ہیں، جس کے بعد میئر اور ڈپٹی میئر کیلئے اصل معرکہ آرائی کی تصویر واضح ہوگی۔