• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں بغاوت کرنے والے کارپوریٹروں کے خلاف کارروائی ہوگی

Updated: February 21, 2026, 8:30 AM IST | Dombivli

بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے باغیوں پر پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا الزام لگایا، کانگریس کے ایک طبقے میں بھی ناخوشی۔

BJP state president Ravinder Chauhan. Photo: INN
بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹرمیں کارپوریشن کےانتخابات کے بعد جاری جوڑ توڑ اور سیاسی بساط کی نئی چالوں نے ایک بار پھر غیر متوقع رخ اختیار کر لیا ہے۔ تازہ ترین معاملہ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب کے دوران پیش آیا ہے۔ برسر اقتدار بی جے پی کو اپنے ہی اراکین کی بغاوت کے سبب شرمناک ہزیمت اٹھانی پڑی۔ پارٹی کے باغی امیدوار نارائن چودھری نے تمام سیاسی اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے کانگریس اور این سی پی کی تائید سے میئر کی کرسی سنبھال لی جس نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ 
اس غیر متوقع نتیجے کے بعد ریاستی صدر رویندر چوہان نے باغی کارپوریٹروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا عندیہ دے کر سیاسی درجۂ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھیونڈی میئر کے عہدے کیلئے بی جے پی نے باضابطہ طور پر اسنیہا پاٹل کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا لیکن بی جے پی کے ہی سینئر کارپوریٹر نارائن چودھری نے پارٹی فیصلے کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخاب کے دوران بی جے پی کے ۶؍ کارپوریٹروں نے پارٹی کے وہپ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باغی گروہ کا ساتھ دیا جس کی بدولت نارائن چودھری باآسانی منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔ یہاں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نارائن چودھری ابتدا میں بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان کی پہلی پسند تھے اور انہوں نے ۵ فروری کو ضلعی صدر روی کانت ساونت کو خط لکھ کر ان کے نام کی سفارش بھی کی تھی تاہم بعد ازاں ریاستی قیادت نے اسنیہا پاٹل کو ترجیح دی۔ اس سیاسی شکست پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر چوہان نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کارپوریٹروں کو سمجھانے کی پوری کوشش کی تھی اور انہوں نے ہمیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ پارٹی کے وفادار رہیں گے۔ لیکن نتائج نے ثابت کر دیا کہ انہوں نے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ جن کارپوریٹروں نے پارٹی ڈسپلن کی دھجیاں اڑائی ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا اور ان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب سیاسی پنڈتوں کے حلقوں میں یہ سوال ایک شبہ بن کر ابھرا ہے کہ جارحانہ اور ہر وقت انتخابی موڈ میں رہنے والی بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے اس پورے بحران کے دوران پراسرار خاموشی کیوں اختیار کر رکھی تھی؟ بی جے پی جو معمولی بلدیاتی انتخابات میں بھی اپنی پوری ریاستی مشینری جھونک دیتی ہے اس اہم موڑ پر اس کے سینئر لیڈروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تمام فلک بوس عمارتوں میں او سی ، این اوسی اور سیوریج لائن کے تعلق سےسبھی شہری انتظامیہ کو سخت ہدایت

میئر کے اس طرح سے منتخب کئے جانے پر کانگریس میں بھی ناراضگی ہے۔ یاد رہے کہ بھیونڈی میں کانگریس کے ۳۰؍ کارپوریٹر جیت کر آئے ہیں جبکہ این سی پی کے ۱۲؍ کارپوریٹروں کی بھی اسے حمایت حاصل ہے اس کے باوجود بی جے پی سے آئے ہوئے کارپوریٹرکو میئر بنا دیا گیا۔ سابق رکن اسمبلی اور سینئر لیڈر رشید طاہر مومن نے ایک روز قبل راہل گاندھی کے نام خط روانہ کیا ہےجس میں مہاراشٹر کانگریس کی قیادت پر الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کے کارپوریٹر کو ووٹ دینےکا وہپ جاری کرکے کانگریس کے نظریات سے سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں  نے اس فیصلے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK