• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمام فلک بوس عمارتوں میں او سی ، این اوسی اور سیوریج لائن کے تعلق سےسبھی شہری انتظامیہ کو سخت ہدایت

Updated: February 19, 2026, 2:16 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے بی ایم سی ، ٹی ایم سی اوردیگر شہری انتظامیہ سے کہاکہ عمارتوں میںسیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ مکمل ہونے سے قبل کسی بھی فلک بوس عمارت کو اوسی نہ دی جائے۔

Bombay Highcourt.Photo:INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
غیر قانونی تعمیرات  ، اوسی اور این اوسی نہ لینے کے علاوہ بامبے ہائی کورٹ میں ایک کسان نے  درخواست داخل کرتے ہوئے یہ شکایت کی ہے کہ شہری انتظامیہ نے اس کے کھیت سے متصل ایک رہائشی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت تو دے دی لیکن عمارت کی باقاعدہ سیورج لائن نہ نکالے جانے اور میرے کھیت کو نقصان پہنچانے کے باوجود بلڈنگ بنانے والے ڈیولپرکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی   ۔اس  پرہائی کورٹ نے کسی بھی زیر تعمیر عمارت میں زیر زمین سیوریج لائن کا کام مکمل ہونے سے قبل بلڈنگ کو اوسی یا این اوسی دینے پر سخت کارروائی کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
 
 
ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس گریش کلکرنی کی سربراہی میں جاری سماعت کے دوران درخواست گزار کسان نےداخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ بتایا کہ ’’ بدلا پور میں شہری انتظامیہ نے ایک رہائشی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن بلڈر  اور ڈیولپر نے سیوریج لائن کو میرے کھیتو ں میں چھوڑ دیا  جس کی وجہ سے اس کی فصل خراب ہورہی ہے۔ کسان نے اس ضمن میں شہری انتظامیہ میں شکایت کی تھی ،باوجود اس کے  انتظامیہ سیوریج لائن کو نہ تو درست کررہی ہے اور نہ بلڈر کے خلاف کوئی کارروائی کررہی ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل سریش پھٹانگڑے کی فراہم کردہ اطلاع پر جب کورٹ نے کل گاؤں میونسپل انتظامیہ کے متعلقہ افسران سے اس بابت جاننا چاہاتو انہوں نے لا تعلقی کا اظہار کیا جس پر کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔
 
 
جسٹس گریش کلکرنی کو درخواست گزار کے وکیل نےمذکورہ بالا علاقے میں ۳۴؍ غیر قانونی عمارتیں  تعمیر کئے جانے کی بھی اطلاع دی تھی ۔ اس پر دو رکنی بنچ نے تمام میونسپل کارپوریشنوں ، میونسپل کونسلوں ، گرام پنچایتوں اور نگر پریشد کے متعلقہ افسران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ کسی بھی فلک بوس یا رہائشی عمارتوں کی تعمیرات کے دوران ڈالی جانے والی سیوریج لائن مکمل ہونے سے قبل او سی یا این اوسی جاری کرتے ہیں تو ان کے خلاف کورٹ سخت رویہ اپنائے گا اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کرے گا ۔‘‘ یہی نہیں کورٹ نے ان سبھی بلڈرس اینڈ ڈیولپرس کو بلیک لسٹ کرنے کا فرمان جاری کیا جو سیوریج لائن بچھانے کے عمل میں کوتاہی برتتے ہیں یا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔کورٹ نے اس ضمن میں بنائی گئی کمیٹی کو مذکورہ بالا مسئلہ کاجائزہ لینے اور ۱۵؍ دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس کے علاوہ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر سیوریج لائن کے درست طریقے سے بچھائے نہ جانے کے باوجود او سی اور این اوسی دی جاتی ہے تو نہ صرف بلڈر س اور ڈیولپرس کے خلاف بلکہ متعلقہ شہری انتظامیہ کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیتے   ہوئےاس معاملے کی سماعت کو ۲۸؍ جنوری تک کیلئے ملتوی کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK