• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : بی جے پی نے میئر امیدوار بدلا، نارائن چودھری کے باغیانہ تیور

Updated: February 19, 2026, 6:28 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

سیکولر فرنٹ سے رابطوں کی تصدیق، اب اسنیہا میہول پاٹل کو باضابطہ امیدوار نامزدکیا ، اس غیرمتوقع تبدیلی سےپارٹی کی اندرونی حکمت عملی پر سوالات

Narayan Chaudhary issued a video statement saying that he is in touch with the leaders of the Secular Front.
نارائن چودھری نے ایک ویڈیو بیان جار ی کرکے کہا کہ وہ سیکولر فرنٹ کے لیڈروں سے رابطےمیں ہیں۔

میونسپل کارپوریشن کے میئر انتخاب سے محض دو روز قبل بی جے پی کی جانب سے اپنے نامزد امیدوار کی اچانک تبدیلی نے شہر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارٹی نے نارائن چودھری کی جگہ اسنیہا میہول پاٹل کو باضابطہ امیدوار نامزد کرتے ہوئے تحریری ہدایت جاری کی جس کے فوراً بعد نارائن چودھری نے باغیانہ تیور اختیار کرتے ہوئے سیکولر فرنٹ کے لیڈروں سے رابطوں کی تصدیق کر دی۔ اس پیش رفت نے بلدیاتی ایوان میں نئی صف بندیوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے امکانات کو تقویت دی ہے۔اطلاعات کے مطابق بی جے پی کے ریاستی صدر کی جانب سے پہلے نارائن چودھری کو میئر کا باضابطہ امیدوار قرار دیا گیا تھا۔ مقامی صدر روی کانت ساونت کے اعلان کے بعد چودھری نے۱۶؍ فروری کو باقاعدہ نامزدگی بھی داخل کی تھی، تاہم بدھ کو اچانک پارٹی قیادت نے یو ٹرن لیتے ہوئے اسنیہا میہول پاٹل کو نیا امیدوار نامزد کر دیا اور تمام کارپوریٹروں کو اس فیصلے سے تحریری طور پر آگاہ کیا گیا۔ اس غیر متوقع تبدیلی نے پارٹی کی اندرونی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
 امیدوار کی تبدیلی کے فوراً بعد نارائن چودھری نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیکولر فرنٹ کے لیڈروں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور شہر میں متبادل سیاسی حکمت عملی پر بات چیت جاری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان محض ناراضگی کا اظہار نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سیاسی پیغام ہے جو ایوان میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
 ذرائع کے مطابق اگر کانگریس اور این سی پی (ایس پی) کے ساتھ مفاہمت طے پا جاتی ہے تو عددی صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک فارمولہ زیر غور ہے جس کے تحت نارائن چودھری کو میئر، کانگریس کو ڈپٹی میئر اور این سی پی (ایس پی) کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مجوزہ بندوبست پر خود سیکولر حلقوں کے اندر بھی مختلف آرا ءسامنے آ رہی ہیں۔
 شہریوں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی سیاست میں صرف عددی اکثریت ہی نہیں بلکہ اصولی استحکام اور نظریاتی ہم آہنگی بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اگر سیکولر اتحاد تشکیل پاتا ہے تو قیادت کا تعین شفاف اصولوں اور اجتماعی فیصلے کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی ناراض رکن کو فوری طور پر سب سے اعلیٰ عہدہ دینا سیاسی طور پر سوالات کو جنم دے سکتا ہے، اس لئے عہدوں کی تقسیم میں تجربہ، جماعتی استحکام اور عوامی اعتماد کو ترجیح دی جانی چاہئے۔
 دوسری جانب تاحال کسی بھی جماعت کی طرف سے حتمی اعلان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اندرونی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK