• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حفاظ تراویح کیلئے پاروں کا دَور کرنے میں مصروف

Updated: February 19, 2026, 6:25 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ایک دوسرے کوسنایا تاکہ مشابہت والی آیات کی نشاندہی کےساتھ اُن آیات کا اعادہ کرلیا جائے ۔ مساجد میں رنگ وروغن کے ساتھ برقی قمقموں اور رنگ برنگی لائٹوں سےسجایا گیا

Haffaz, taking away the verses recited in Taraweeh.
حفاظ تراویح میں پڑھائے جانے والے پاروں کا دور کرتے ہوئے۔(تصویر: انقلاب)

حفاظ تراویح پڑھانے کیلئے تیاری اور دَور کرنے میں مصروف نظر آئے۔وہ ایک دوسرے کو سنا رہےتھے تاکہ مشابہت والی آیات کی مصلے پر جانے سے قبل نشاندھی ہوجائے یا اگر کہیں مشابہت لگ رہی ہو تواُن آیات کا اعادہ اور انہیں مزیدپختہ کرلیا جائے۔
 متعدد حفاظ سے بات چیت کرنے پرانہوں نے بتایا کہ چاند ہونے کے امکان کے پیش نظر انہوں نےبدھ کی صبح  ہی سے تیاری شروع کی اورجو پارے تراویح میں پڑھانے تھے، ان کو کئی بار دہرایا تاکہ پختہ یاد رہے اورآسانی کےساتھ تراویح میں سنایا جاسکے ۔ 
’’اس سے بڑی حد تک اطمینان ہوجاتا ہے‘‘
 سانتاکروز میںتراویح پڑھانے والے حافظ محمد آفتاب نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ’’ بدھ کو چاند نظرآنے کا امکان تھا اس لئے اسی حسا ب سے تیاری کی اور دوسرے حافظ صاحب کو سنایا ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سننے اور سنانے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کوکہاںمشابہت لگ رہی ہے، اس کااندازہ ہوجاتا ہے ، اس سے بڑی حد تک اطمینان ہوجاتا ہے۔‘‘ حافظ آفتاب نے مزید کہا کہ’’ تقریباً تمام حفاظ کا یہی معمول رہتا ہے، وہ ایک دوسرے کو سنادیتے ہیں،قرآن مکمل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔‘‘
 ملاڈ دارو والا کمپاؤنڈ میںتراویح پڑھانے والے حافظ ابوطالب نے بتایا کہ ’’ تراویح سنانے سے قبل دَور اور ایک دوسرے کوسنانا ضروری ہوتا ہے ۔اس کا سب  بڑا فائدہ یہ ہوتا ہےکہ خود تلاوت کرنے اور دوسرے کو سنانے کے دوران ایک ایک آیت کی نشاندہی ہوجاتی ہے اور اگر کہیں غلطی ہورہی ہو یا مشابہت لگ رہی ہو تو اس کاپیشگی اندازہ ہوجاتا ہےاور مصلے پرکھڑے ہونے سے پہلے اس آیت کومتعددمرتبہ پڑھ کرذہن نشین کرلیا جاتا ہے۔‘‘
مساجد کو آراستہ کیا گیا 
 مینارہ مسجد کے ٹرسٹی عبدالوہاب کے مطابق ’’ مینارہ مسجد تاریخی اہمیت کی حامل ہے اورممبئی کی مشہور مساجد میںسے ایک ہے۔ اسی حساب سے افطار اورتراویح کی نماز میں یہاں مصلیان کی کثرت ہوتی ہے۔ اسی لئے پہلے سے اس کی تیاری کرلی جاتی ہے، صاف صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ پانی ، چٹائی ،ایئرکنڈیشن اور دیگر ضروری چیزوں کوپہلے سے درست کرلیا جاتا ہے تاکہ مصلیان کوکسی قسم کی دقت نہ ہو ، وہ آسانی کے ساتھ عبادت کرسکیں۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’ ماہِ مبارک کے حساب سے مسجد کےاندرونی ا وربیرونی حصوں میں آرائش بھی کی جاتا ہے اوربرقی قمقوں اورروشنی سے سجایا جاتاہے ۔‘‘  
 ناریل واڑی قبرستان انتظامیہ کمیٹی کے رکن یٰسین چشتی نے انقلاب کوبتایا کہ ’’ خاص طور پر مسجد کے اندرونی حصے میں قالین، ایئرکنڈیشن اور دیگر ضروری چیزوں کی پیشگی درستی کی گئی ہے تاکہ مزید یکسوئی کے ساتھ مصلیان عبادت کرسکیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ’’ اسی طرح مساجد میں رنگ و روغن اور آرائش کے علاوہ اضافی روشنی بھی کی گئی ہے اورگیٹ پرجو سجاوٹ شب ِ برأت میں کی گئی تھی ،اسے برقرار رکھا گیا ہے ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK