امریکی وزیر توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکے گا، چاہےمذاکرات سے یا دوسرے طریقے سے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر مذاکرات سے تنگ آچکے ہیں، اور کسی بھی وقت حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 10:37 PM IST | Washington
امریکی وزیر توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکے گا، چاہےمذاکرات سے یا دوسرے طریقے سے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر مذاکرات سے تنگ آچکے ہیں، اور کسی بھی وقت حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔
ایکسوس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جلد ہی ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ کارروائی گزشتہ محدود پیمانے پر حملوں سے مختلف ہوگی، اس دوران امریکہ نے اسرائیل کی شمولیت کیلئے بھی حامی بھر لی ہے۔رپورٹ میں حوالہ دیے گئے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پچھلے مہینے وینزویلا میں کیے گئے مختصر، ٹارگٹڈ حملے کی بجائے ایک طویل، ہفتوں جاری رہنے والی فوجی مہم سے مشابہت رکھتا ہے۔ذرائع نے ممکنہ مہم کو گزشتہ جون میں اسرائیل کی قیادت میں ہونے والے۱۲؍ روزہ فوجی تصادم سے وسیع تر اور ایران کی قیادت کے لیے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوران مذاکرات امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں خاطر خواہ اضافہ کرلیا ہے۔اس کے علاوہ رپورٹ میں جینیوا میں ہونے والے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا گیا ہے، تاہم امریکی حکام کو شک ہے کہ ان مذاکرات سے بنیادی اختلافات دور ہوسکتے ہیں۔ایک انٹرویو میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ،’’ اگر پیش رفت رکی تو ٹرمپ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سفارت کاری اپنا راستہ مکمل کر چکی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امیگریشن پالیسیوں پر ٹرمپ کی عوامی حمایت میں ریکارڈ کمی، ۳۸؍ فیصد رہ گئی
وقت کے حوالے سے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کچھ ہی دنوں کے اندر ممکنہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں اور ایک وسیع مہم کی وکالت کر رہے ہیں جو نہ صرف ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں بلکہ ممکنہ طور پر خود حکومت کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ تاہم، کچھ امریکی ذرائع کا خیال ہے کہ کارروائی ابھی ہفتوں دور ہو سکتی ہے۔جبکہ امریکی حکام نے ایران کو تفصیلی تجویز پیش کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے، جبکہ اس سے قبل ٹرمپ نے اسی قسم کی مہلت کے فوراً بعد ایران پر حملہ کردیا تھا۔
دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایران کے جوہری عزائم کو ناکام بنانے کیلئے کسی بھی طریقہ کو اپنا سکتے ہیں، چاہے وہ مذاکرات ہوں یا دوسرا طریقہ۔رائٹ نے پیرس میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ’’ ڈونالڈ ٹرمپ ایسا ایران نہیں ہو چاہتے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔‘‘واضح رہےکہ وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب ایران کے ساتھ جینیوا میں مذاکرات کا دور مثبت نتیجے پر ختم ہوا ہے۔ اور فریقین نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران -امریکہ مذاکرات کا دوسرا دو ربھی اختتام کوپہنچا
جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران اور روس نے کل بحیرہ عمان میں مشترکہ بحری مشقوں کا اعلان کیا ہے، نیوز ایجنسی’’ ارنا‘‘نے مشقوں کے ترجمان ریئر ایڈمرل حسن مقصودلو کے حوالے سے بتایا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشق کل بحیرہ عمان اور شمالی بحر ہند میں منعقد ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس کا مقصد بحری سلامتی کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنا ہے۔‘‘تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کی ملاقاتوں نے تہران اور ماسکو کے تعلقات کے لیے نئے افق کھول دیے ہیں۔ پزشکیان نے روسی وزیر توانائی سرگئی تسیویلیف کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا، ’’تمام منعقدہ ملاقاتوں میں، اہم فیصلے کیے گئے ہیں جو دونوں ممالک اور دونوں قوموں کے مشترکہ مفادات کو یقینی بناتے ہیں اور تہران اور ماسکو کے تعلقات کے لیے نئے افق کھولے ہیں۔‘‘