• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرنویس سرکار نے مسلمانوں کا ۵؍ فیصد کوٹہ بے اثرکردیا

Updated: February 19, 2026, 6:21 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

۲۰۱۴ء میں کانگریس سرکار نے آرڈیننس جاری کیا تھا جسے اب مہایوتی حکومت نے منسوخ کردیا۔کانگریس اور سماجوادی نے شدید مذمت کی، مسلم مخالف قدم قرار دیا

Chief Minister Devendra Fadnavis` government has formally canceled the reservation. (Photo: PTI)
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی حکومت نے ریزرویشن باقاعدہ منسوخ کردیا ہے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

مہاراشٹر میں انگریس /این سی پی کے دورِ اقتدار میں ۲۰۱۴ء میں پسماندہ مسلمانوں کوتعلیم میں ۵؍ فیصد ریزرویشن (اسپیشل پسماندہ جماعت۔ ایس بی سی) دینے کا جو آرڈیننس جاری کیا گیاتھا،  اسے بی جے پی کی قیادت والی مہا یوتی حکومت نے باقاعدہ رد کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ آرڈیننس پہلے ہی بے اثر ہو چکا تھا لیکن اب فرنویس حکومت نے اسے پوری طرح سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ پر کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ایم آئی ایم  نے شدید تنقیدیں کی ہیں۔   
  اقلیتی برادری کو ترقی سے دور رکھنے کی کوشش: نسیم خان
 مسلم ریزرویشن کے جی آر کو منسوخ کرنے پر کانگریس اوراین سی پی کی حکومت میں اقلیتی امور کے وزیر رہ چکے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن محمد عارف نسیم خان نے سخت انداز میںکہا کہ ریاست کی  فرنویس حکومت کی طرف سے مسلم کمیونٹی کو دیئے گئے ۵؍فیصد تعلیمی ریزرویشن کو منسوخ کرنے کا فیصلہ انتہائی غلط اور اقلیتی برادری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ہم اس فیصلہ کی مذمت کرتے ہیں ۔ اس ریزرویشن کو منسوخ کرکے بی جےپی حکومت نے اقلیتی برادری کو ترقی کرنے روکنے کا گناہ کیا ہے    ۔ تلک بھون (دادر) میں منعقدہ پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ یہ روایت رہی ہے کہ حکومت میں کابینہ میں کوئی تجویز منظور کی جاتی ہے تو اس کے بعد اس کا جی آرجاری کیا جاتا ہے اور اس جی آر کو اس کے بعد منعقد ہونےو الی اسمبلی کے اجلاس میں قانونی شکل دینے کیلئے پیش کیا جاتا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں ہماری کانگریس حکومت نے یہ آرڈیننس جاری کیاتھا لیکن اسی کےبعد ہی اقتدار تبدیل ہو گیا  ۔ ناگپور میں منعقدہ اسمبلی کے اجلاس میںمَیں نے خود یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھایا تھا جس پر وزیر اعلیٰ  فرنویس نے یقین دلایا تھا کہ اس بارے میں جانچ کرنے کے بعداس جی آر کو قانونی شکل دی جائے گی لیکن انہوں نے اسے منسوخ ہی کردیا۔  اسی لئے ہم اس مہایوتی حکومت کو مسلم اور اقلیت مخالف کہہ رہے ہیں۔ 
سچر کمیٹی کی سفارشات 
 عارف نسیم خان نے بتایا کہ کانگریس۔این سی پی حکومت نے  سچر کمیٹی کی سفارشات پر ۲۰۱۴ء میںمسلمانوں کے پسماندہ طبقات کوتعلیم اور ملازمتوں میں ۵؍ فیصد ریزرویشن دینے کیلئے  ایک آرڈیننس جاری کیا تھا ۔ اس آرڈیننس کو کورٹ میں بھی چیلنج کیاگیا جس پر عدالت نے نوکری میں ریزرویشن کو نامنظور کردیا تھا لیکن تعلیم میں پسماندہ مسلمانوں کو ۵؍ فیصد ریزرویشن دینے کی حمایت کی تھی۔ یہ ریزرویشن تعلیمی سال ۱۵۔۲۰۱۴ء  میں نافذ بھی کیاگیا ۔اس آرڈیننس کو اسمبلی میں قانونی شکل دی جانی چاہئے تھی لیکن فرنویس حکومت نے اس آرڈیننس پر مزید کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ عدالتی حکم پر عمل کیا۔  عارف نسیم خان نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے اقلیتی برادری کیلئےجتنی بھی اسکیمیں شروع کی تھیں ،مہایوتی حکومت میں اسے روک دیا گیا ہے۔ طلبہ کو تعلیم کیلئے اسکالرشپ دی جارہی تھی ۔اسے بھی یہ حکومت نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقلیتی برادری میں صرف مسلمان نہیں بلکہ جین، سکھ، پارسی اور دلت وغیرہ بھی آتے ہیں۔
 ابو عاصم اعظمی نے کیا کہا ؟ 
 مسلم کوٹہ کے آرڈیننس کی منسوخی سماجوادی پارٹی کے مہاراشٹر کے صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظی نے اسے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سیدھا سا سوال یہ ہے کہ جب قانون کبھی نافذ ہی نہیں ہوا تھا تو آج اسے منسوخ کرنے کی رسم کیوں ادا کی گئی؟ اگر مقصد واقعی سماجی انصاف ہے تو اس نامکمل کام کو مضبوط قانونی بنیاد کے ساتھ آگے بڑھانا ضروری تھا۔ ابو عاصم اعظمی  کے مطابق بامبے ہائی کورٹ نے تعلیم میںاسکولوں اور کالجوں میں داخلہ کیلئے  ۵؍فیصد مسلم ریزورویشن کو مسلمانوں کی پسماندگی کی بنیاد پر برقرار رکھا تھا لیکن سرکار کی نیت صاف نہیں تھی۔سچر کمیٹی اور محمود الرحمن کمیٹی نے بھی مسلمانوں کی معاشی و  اقتصادی بدحالی پر ریزرویشن دینے کی سفارش کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK