امیدواروں کے انتخاب سے ناراض کئی لیڈ راین سی پی (اجیت) کے خیمے میں شامل ہوگئے۔ بی جے پی نے اپنے ہی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
مغربی حلقہ کے رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے فرزند میت چوگھلے پرچہ نامزدگی داخل کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے سلسلے میں بی جے پی نے بدھ کو۳۰؍ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے۔اس فہرست کے مطابق پارٹی کی جانب سے بارہا خاندانی سیاست کی مخالفت کے دعوؤں کے باوجود، ٹکٹوں کی تقسیم میں قریبی رشتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔فہرست میں جہاں کئی سابق اور سینئر کارپوریٹروں کو دوبارہ موقع دیا گیا ہے، وہیں متعدد پرانے اور سرگرم چہروں کو نظرانداز کئے جانے سے پارٹی میں عدم اطمینان کی فضا صاف طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔
بی جے پی کی فہرست میں اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی سے شندے سینا میں شامل ہونے والے سابق کارپوریٹر سنتوش شیٹی سمیت کئی تجربہ کار سابق نمائندوں کو ایک مرتبہ پھر میدان میں اتارا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے ایک مسلم امیدوار ابو سعد للن کو ٹکٹ دیا ہے۔تاہم ٹکٹوں کی تقسیم کے طریقۂ کار سے ناخوش متعدد سابق کارپوریٹروں نے این سی پی (اجیت پوار) کا رخ کر لیا ہے جس کے باعث انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
وارڈ نمبر۲۳؍ سے سابق کارپوریٹر نیلیش چودھری کو اگرچہ بی جے پی نے امیدوار بنایا ہے، تاہم ان کی اہلیہ کو ٹکٹ نہ ملنے پر دشکتا چودھری نے وارڈ نمبر۲۱؍ ’ب‘ سے این سی پی (اجیت پوار) کی جانب سے پرچۂ نامزدگی داخل کر دیا ہے۔
اسی طرح سابق بی جے پی کارپوریٹر ساکھرا بائی باگڑے کو ٹکٹ سے محروم کئے جانے پر انہوں نے وارڈ نمبر۲۰؍ ’اے‘ سے این سی پی (اجیت پوار) کے ٹکٹ پر نامزدگی داخل کی ہے جبکہ سابق کارپوریٹر شیام بھوئیر نے بھی وارڈ نمبر ۲۱؍’اے‘ سے این سی پی (اجیت) کی جانب سے اپنا پرچہ داخل کر دیا ہے۔
ریاستی اعلان کے باوجود
رکنِ اسمبلی کے فرزند کو ٹکٹ
بی جے پی کی ریاستی قیادت کی جانب سے واضح اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ میونسپل انتخابات میں اراکین اسمبلی یا اراکین پارلیمنٹ کے قریبی رشتہ داروں کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد ناسک میں ایک رکن اسمبلی کے فرزند نے انتخابی میدان سے دستبردار ہو کر کارکنوں کو موقع دینے کی مثال بھی قائم کی تھی لیکن بھیونڈی میں اس فیصلے پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دیا۔
خاندانی سیاست کی مخالفت کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی نے رکن اسمبلی مہیش چوگھلے کے فرزند میت چوگھلے، ان کے چچیرے بھائی پریش (راجو) چوگھلے اور سابق رکن پارلیمنٹ کپل پاٹل کے بھتیجے سُمِت پاٹل کو امیدوار بنا کر اپنے ہی موقف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس سلسلے میں بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کے سربراہ ایڈوکیٹ پریشیت جیونت کے مطابق پرابھگ سمیتی نمبر ایک میں پہلی مرتبہ بی جے پی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑا جا رہا ہے اور وہاں کسی مقامی عہدیدار یا کارکن نے باضابطہ طور پر امیدواری ظاہر نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق میت چوگھلے گزشتہ ایک سال سے علاقے میں سرگرم ہیں، اسی بنیاد پر شہر کی انتخابی کمیٹی نے ان کے نام کی سفارش کی۔