Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی شہر شدید فضائی آلودگی کی زد میں

Updated: April 27, 2026, 11:54 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور دیگر بیماریوں کا سامنا، آلودگی پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا انتباہ۔

Smoke rises from burning scrap in the AasBibi area. Photo: INN
آس بی بی علاقے میں اسکریپ جلانے سے اٹھتاہوادھواں۔ تصویر: آئی این این

پاورلوم صنعت کیلئے مشہور شہر بھیونڈی ان دنوں شدید فضائی آلودگی کی زد میں ہے، جہاں سائزنگ و ڈائنگ فیکٹریوں اور موتی (پلاسٹک) کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں شہریوں کی صحت کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کیمیکل ملا اسکریپ اور پلاسٹک کچرا جلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث فضا میں سیاہ دھوئیں کی تہہ چھا گئی ہے اور شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور دیگر بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی عوامی شکایات کے بعد میونسپل انتظامیہ بھی حرکت میں آ گئی ہے اور آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق بھیونڈی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں قائم متعدد ڈائنگ یونٹس میں کم لاگت کیلئے کوئلے اور لکڑی کے بجائے پلاسٹک کچرا، تھرماکول، جلا ہوا تیل اور دیگر مضر مواد بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان اشیاء کے جلنے سے اٹھنے والا مہلک دھواں نہ صرف صنعتی علاقوں بلکہ رہائشی بستیوں تک پہنچ کر ماحول کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دھوئیں میں شامل زہریلے کیمیائی اجزاء پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں جس سے بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر خطرہ لاحق ہے۔ 
دوسری جانب شہر کے مختلف حصوں میں موتی کارخانوں سے نکلنے والا کیمیکل زدہ اسکریپ کھلے میدانوں میں جلایا جا رہا ہے۔ کلیان روڈ کے آس بی بی علاقے میں رہنے والے شعبان شیخ کا کہنا ہے کہ میونسپل اسکول نمبر اسکول نمبر ۶۵؍کے سامنے واقع کھلے میدان میں آئے دن اسکریپ جلایا جاتا ہے جس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں اطراف کے مکینوں کیلئے وبالِ جان بن چکا ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی شکایت متعلقہ پربھاگ سمیتی کے اسسٹنٹ کمشنر سے بھی کی تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: لاپرواٹھیکہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ

اسی طرح نئی بستی کے گوتم اور گووند کمپاؤنڈ سمیت دیگر علاقوں میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جہاں اسکریپ کے جلنے سے تیز شعلے اور گاڑھا دھواں پیدا ہوتا ہے، جس سے نہ صرف آگ لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے بلکہ قریبی عمارتوں تک دھواں پہنچ کر ماحول کو مزید آلودہ کر دیتا ہے۔ مقامی شہریوں کا الزام ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ محکمہ مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ نگرانی کے فقدان کے باعث رات کے اوقات میں آلودگی کی شدت اور بڑھ جاتی ہے۔ 
اس بڑھتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے میئر نارائن چودھری نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد آلودگی پر قابو نہیں پایا گیا تو انتظامیہ کے خلاف عوامی تحریک شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے شفافیت اور سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ 
ادھر میونسپل کارپوریشن کے ماحولیاتی شعبہ کے سربراہ سنیل بھوئیر نے بتایا کہ میئر کی ہدایت پر رات کے وقت خصوصی نگرانی شروع کر دی گئی ہے اور آلودگی پھیلانے والے کارخانوں کو نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شہریوں نے انتظامیہ سے فوری مداخلت، مسلسل نگرانی اور آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف بے لاگ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بھیونڈی کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK