Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: پانی پر تنازع سنگین، میونسپل کارپوریشن اور گرام پنچایت آمنے سامنے

Updated: April 27, 2026, 11:54 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

یہاں پانی کی قلت اور اس کی تقسیم کے تعلق سے میونسپل کارپوریشن اور کھونی گرام پنچایت کے درمیان تنازع سنگین رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

Bhiwandi Nizampur Municipal Corporation building. Photo: INN
بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

یہاں پانی کی قلت اور اس کی تقسیم کے تعلق سے میونسپل کارپوریشن اور کھونی گرام پنچایت کے درمیان تنازع سنگین رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ واقعہ میں سابق ڈپٹی میئر عمران خان اور کھونی گرام پنچایت کے سرپنچ الطاف بالی کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ 
اطلاعات کے مطابق شہر کے بعض علاقوں اور کھاڑی پار واقع کھونی گرام پنچایت کو ایک ہی پائپ لائن کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ گرام پنچایت کا الزام ہے کہ دیہی علاقوں کے حصے کا پانی شہر میں غیرقانونی کنکشنز کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی شکایت کے پیش نظر سرپنچ الطاف بالی اپنے ساتھیوں اور متعلقہ حکام کے ہمراہ پائپ لائن کی جانچ کیلئے موقع پر پہنچے، جہاں مبینہ طور پر کچھ غیرقانونی کنکشنز کی نشاندہی کے بعد انہیں منقطع کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: میل گھاٹ میں بنیادی سہولیات کے فقدان کے سبب اموات پر عدالت برہم

دوسری جانب جیسے ہی اس کارروائی کی اطلاع ملی، سابق ڈپٹی میئر عمران خان، کارپوریٹر حسنین فاروقی اور دیگر نمائندے بڑی تعداد میں شہریوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ اس دوران دونوں فریقین کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ کیا گیا۔ 
عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ جن کنکشنز کو غیرقانونی قرار دیا جا رہا ہے وہ دراصل میونسپل کارپوریشن کی جانب سے باقاعدہ دئیے گئے ہیں اور انہیں کاٹنا شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ دوسری طرف سرپنچ الطاف بالی نے الزام دہرایا کہ ان کے علاقے کیلئے مختص پانی میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے اور غیرقانونی کنکشنز کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ اعلیٰ حکام سے رجوع کریں گے اور مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اس پورے معاملے پر میونسپل کارپوریشن کے واٹر سپلائی محکمہ کے ایگزیکٹو انجینئر سندیپ پٹناور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی پائپ لائن سے شہر اور دیہی علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے اور جہاں کہیں بھی غیرقانونی کنکشنز پائے جائیں گے ان کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK