نالے کی ادھوری تعمیر، حفاظتی انتظامات اور متبادل راستہ نہ ہونے سے بچوں اور خواتین کی سلامتی کو خطرہ۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 12:06 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
نالے کی ادھوری تعمیر، حفاظتی انتظامات اور متبادل راستہ نہ ہونے سے بچوں اور خواتین کی سلامتی کو خطرہ۔
شہر کے کاپ آلی، برف گلی علاقے میں واقع سرکاری بال واڑی کے سامنے نالے کے تعمیراتی کام میں مبینہ لاپروائی کے باعث بچوں اور خواتین کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نالے کی تعمیر شروع کئے جانے کے بعد گزشتہ ۸؍ دنوں سے نالہ کھلا چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ بال واڑی تک پہنچنے کیلئے کوئی متبادل راستہ بھی فراہم نہیں کیا گیا، جس سے بچوں، آنگن واڑی کارکنان اور دیگر عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ بال واڑی حکومتِ مہاراشٹر کے محکمۂ خواتین و اطفال کی آئی سی ڈی ایس اسکیم کے تحت چلائی جا رہی ہے۔ سال ۱۷۔ ۲۰۱۶ءمیں شہری دلت بستی سدھار یوجنا کے تحت اس عمارت کی تعمیر کی گئی تھی۔ حال ہی میں پرانے سیمنٹ نالے کو منہدم کرکے نئے نالے کی تعمیر شروع کی گئی، تاہم حفاظتی اقدامات کے بغیر نالہ کھلا چھوڑ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: پٹری عبور کرنے والوں کیلئے محفوظ متبادل
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کھلے نالے کی وجہ سے بچوں کی آمد و رفت دشوار ہوگئی ہے اور کسی بھی وقت حادثہ پیش آسکتا ہے۔ بال واڑی کی روزمرہ سرگرمیوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کے ہفتہ وار طبی معائنے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ تعمیراتی مقام پر منصوبے سے متعلق کوئی معلوماتی بورڈ نصب نہیں کیا گیا، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ کام پربھاگ سمیتی ۲؍کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اس کی نگرانی جونیئر انجینئر ونود بھوئیر کے سپرد ہے۔ تاہم مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ افسر اکثر وارڈ آفس میں موجود نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے تعمیراتی کام کی مؤثر نگرانی نہیں ہو پا رہی۔
سٹی انجینئر جمیل پٹیل نے بتایا کہ متعلقہ جونیئر انجینئر طبی رخصت پر ہیں تاہم پیر کو دوسرے انجینئر کو موقع پر بھیج کر صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب پربھاگ سمیتی ۲؍کے اسسٹنٹ کمشنر ونود منورے نے بتایا اگرچہ یہ منصوبہ ان کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے تاہم اس کی تفصیلی معلومات محکمۂ تعمیرات کے پاس موجود ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نالہ تعمیراتی کام فوراً مکمل کرکے بچوں اور خواتین کی حفاظت کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات اور متبادل راستہ فراہم کیا جائے۔