Inquilab Logo Happiest Places to Work

پٹری عبور کرنے والوں کیلئے محفوظ متبادل

Updated: June 07, 2026, 11:41 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

بھیونڈی میں ملک کا پہلا ’آل ویدر پروف سب وے‘ تیار ۱۵؍جون تک مسافروں کیلئے کھول دئیے جانے کا امکان۔

The first of its kind all-weather-proof subway will soon be opened for passengers. Photo: INN
اپنی طرح کا پہلا آل ویدر پروف سب وے جلد مسافروں کیلئے کھول دیا جائے گا۔ تصویر: آئی این این

ممبئی مضافاتی ریلوے  میں پٹری عبور کرنے کے دوران ہونے والے مہلک حادثات پر قابو پانے کیلئے  ممبئی ریلوے وکاس کارپوریشن (ایم آر وی سی)  نے ایک منفرد اور جدید منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ بھیونڈی روڈ ریلوے اسٹیشن پر ملک کا پہلا مکمل ’’واٹر پروف آل ویدر  پروف سب وے‘‘ تعمیر کیا جا رہا ہے، جو اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور امکان ہے کہ ۱۵؍ جون تک اسے مسافروں کیلئے کھول دیا جائے گا۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ زیرِ زمین راستہ مشرقی اور مغربی حصوں کو آپس میں جوڑے گا اور پنویل۔وسئی ریلوے روٹ پر واقع بھیونڈی روڈ اسٹیشن کی ۷؍ ریلوے لائنوں کے نیچے سے گزرے گا۔ ان لائنوں میں ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور (ڈی ایف سی) کی۲؍ لائنیں، ۲؍ میل و ایکسپریس لائنیں اور ۳؍ لوپ لائنیں شامل ہیں۔

منصوبے کا بنیادی مقصد مسافروں کو پٹریاں عبور کرنے کے خطرناک عمل سے باز رکھنا اور ریلوے حادثات میں نمایاں کمی لانا ہے۔ ماہرین کے مطابق فٹ اوور برج اگرچہ ریلوے کراسنگ کا محفوظ متبادل سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کی زیادہ اونچائی کی وجہ سے اکثر مسافر پل استعمال کرنے کے بجائے براہِ راست پٹریاں عبور کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہر سال سیکڑوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اب سیلون میں بال کٹوانا اور ڈاڑھی بنوانا بھی مہنگا، ۲۰؍ فیصد اضافہ

اسی مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کیلئے ایم آر وی سی نے زیرِ زمین راستوں کے ماڈل پر توجہ مرکوز کی ہے۔۶۸؍ میٹر طویل اس جدید سب وے کی تعمیر میں ’باکس پشنگ‘ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کے تحت ۴۰۰؍ ملی میٹر موٹے کنکریٹ باکسز کو پٹریوں کے نیچے نصب کیا جا رہا ہے۔ تعمیراتی عمل کے دوران ریلوے ٹریفک متاثر نہ ہو اس کیلئے پٹریوں کے نیچے مضبوط فولادی گرڈرز لگائے گئے ہیں۔ ’’کپ اینڈ کون‘‘ نظام کے ذریعے مختلف حصوں کو جوڑا گیا ہے جبکہ پانی کے رساؤ کو روکنے کیلئے جوڑوں پر خصوصی ربر گیسکیٹس نصب کی گئی ہیں۔اس منصوبے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا مکمل واٹر پروف ڈیزائن ہے۔ عام طور پر بارش کے موسم میں متعدد سب ویز میں پانی جمع ہونے، نمی اور سیلن جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام ان کا استعمال کم کرتے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئےبھیونڈی کے اس سب وے میں سہہ سطحی واٹر پروفنگ ٹیکنالوجی اپنائی گئی ہے۔ خصوصی واٹر پروف کیمیکل، اضافی حفاظتی تہہ اور ربڑ گیسکیٹس کے استعمال کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی راستوں کی سطح اطراف کی زمین سے تقریباً ۶۰؍ سینٹی میٹر بلند رکھی گئی ہے تاکہ بارش کا پانی اندر داخل نہ ہو سکے۔

ریلوے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان سینٹرل ریلوے حدود میں۶۲۵۵؍جبکہ ویسٹرن ریلوے کی حدود میں ۳۶۲۷؍ افرادپٹریاں پار کرتے ہوئے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہی تشویشناک اعداد و شمار کے پیشِ نظر ریاستی اور مرکزی حکومت کی مالی معاونت سے ایم آر وی سی مختلف حفاظتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن کے ۳۶؍ حساس مقامات پر فٹ اوور برج تعمیر کئے جا چکے ہیں، تاہم اب زیرزمین راستوں کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جب تک بیلٹ پیپر کا استعمال نہیں کیا جاتا انتخابات کا بائیکاٹ کریں: راج ٹھاکرے

ایم آر وی سی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ولاس واڈیکر نے کہا ہے کہ بھیونڈی میں تعمیر ہونے والا ’’آل ویدر سب وے‘‘ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور مانسون سے قبل عوام کیلئے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوا تو ممبئی اور مضافاتی علاقوں کے دیگر حادثہ خیز مقامات پر بھی اسی طرز کے جدید اور واٹر پروف سب ویز تعمیر کئے جائیں گے جس سے  پٹریوں کو پار کرتے وقت ہونے والے حادثات اور اموات میں خاطر خواہ کمی لانے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK