متوسط طبقے اور چھوٹے کاروباریوں کو راحت دینے کیلئےلوک ہند پارٹی کا وزیر اعلیٰ سمیت متعلقہ حکام کو مکتوب۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 11:31 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
متوسط طبقے اور چھوٹے کاروباریوں کو راحت دینے کیلئےلوک ہند پارٹی کا وزیر اعلیٰ سمیت متعلقہ حکام کو مکتوب۔
بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان گھریلو صارفین کو راحت دینے کیلئے موجودہ ۱۰۰؍ یونٹ تک بجلی کے استعمال پر ملنے والی کم شرح کی سہولت کو بڑھا کر ۲۵۰؍یونٹ تک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لوک ہند پارٹی کے قومی صدر بدیع الزمان خان نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ و وزیر توانائی دیویندر فرنویس، وزیر مملکت برائے توانائی میگھناسکورے بورڈیکر اور مہاراشٹر الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے چیئرمین کو ای میل کے ذریعے مکتوب روانہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں،مزدوروں اور چھوٹے کاروباریوں کو بجلی کے بلوں میں بڑی راحت مل سکتی ہے۔انہوں نے اپنے مکتوب میں نشاندہی کی ہے کہ بجلی ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن موجودہ نظام میں ۱۰۰؍یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال ہونے پر بل کی رقم میں نمایاں اضافہ عام صارفین کے لئے مالی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ ایسے میں کم شرح پر بجلی کی فراہمی کی حد ۲۵۰؍یونٹ تک بڑھانے سے ان خاندانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کے گھریلو اخراجات پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔
لوک ہند پارٹی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صفر سے ۲۵۰؍ یونٹ تک بجلی کے استعمال کے لئے کم اور یکساں شرح مقرر کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تاکہ بجلی کی کھپت میں معمولی اضافے کے باعث صارفین کے بلوں میں غیر متناسب اضافہ نہ ہو۔ ان کے مطابق، مجوزہ رعایت کا فائدہ صارفین کو براہ راست بجلی کے بلوں میں نظر آنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹٹوالا میں سستے گھروں کا لالچ دے کر۸۰؍ سرمایہ کاروں کے ساتھ فریب دہی
بھیونڈی میں بجلی کی تقسیم کے متبادل فراہم کرنے پر بھی زور
مکتوب میں بھیونڈی کے بجلی تقسیم کے نظام میں مسابقت بڑھانے اور صارفین کو متبادل خدمات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ بدیع الزمان خان نے کہا ہے کہ جہاں قانونی طور پر ممکن ہو، وہاں دیگر اہل بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی خدمات فراہم کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ صارفین کو مناسب نرخوں، شفاف بلنگ اور بہتر خدمات کے متبادل میسر آسکیں۔انہوں نے بھیونڈی کی پاور لوم صنعت، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، گوداموں اور تجارتی اداروں کے بجلی ٹیرف کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں کا براہ راست اثر پیداواری لاگت، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار پر پڑتا ہے، اس لئے بجلی کی قیمتوں سے متعلق پالیسی مرتب کرتے وقت گھریلو صارفین کے ساتھ صنعتی اور تجارتی شعبوں کے مفادات کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔بدیع الزمان خان نے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ۲۵۰؍ یونٹ تک کم شرح پر بجلی فراہم کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عام صارفین کو بڑھتے ہوئے بجلی بلوں سے راحت دینے کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں۔