• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹٹوالا میں سستے گھروں کا لالچ دے کر۸۰؍ سرمایہ کاروں کے ساتھ فریب دہی

Updated: October 14, 2026, 11:27 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Titvala

ذاتی مکان کا خواب دکھا کر۵۰؍لاکھ سے زائد رقم اینٹھ کر میاں بیوی فرار، کرائے کے دفاتر اور مکان بھی بند۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ذاتی مکان کا خواب ہر متوسط اور محنت کش خاندان کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو ہوتا ہے۔اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے لوگ برسوں اپنی ضروریات کو محدود کر کے پائی پائی جمع کرتے ہیں لیکن جب اسی جمع پونجی پرجعلسازی کا سایہ پڑ جائے تو نہ صرف مالی مشکلات بڑھ جاتی ہیں بلکہ خاندانوں کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

ٹٹوالا میں سستے مکانات فراہم کرنے کے نام پر مبینہ مالی فریب دہی کا ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے جہاں درجنوں شہریوں سے رقم وصول کرنے کے باوجود انہیں مکانات کا قبضہ نہیں دیا گیا۔ متاثرین نے بلڈر جوڑے( میاں بیوی ) پر رقم ہڑپ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ملزمین کے دفاتر بند ہونے اور ان کے مبینہ طور پر روپوش ہوجانے کے بعد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔

ٹٹوالا (مشرق) میں ۸۰؍ سے زائد خریداروں سے تقریباً ۵۰ ؍لاکھ روپے وصول کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ملزمین راجندر وامن مورے اور ان کی اہلیہ لینا راجندر مورے نے مبینہ طور پر ’رائے گڑھ کمپلیکس ‘اور ’شری سمرتھ کرپا چال‘ کے نام سے رہائشی منصوبے شروع کئے تھے۔ان منصوبوں میں سستے مکانات فراہم کرنے کا وعدہ کرکے شہریوں سے رقم وصول کی گئی۔تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو تعمیراتی کام مکمل ہوا اور نہ ہی خریداروں کو ان کے مکانات کا قبضہ مل سکا۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر کی نگرانی کا نظام ٹھپ!

ٹٹوالا اور اس کے اطراف میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں کم بجٹ والے مکانات کی مانگ بھی بڑھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمین نے مبینہ طور پر ضروری اجازت ناموں کے بغیر سروے نمبر ۲۱۲/پی، ۲۱۲/ڈی اور ۲۳۴/۲۲ کی اراضی پر رہائشی منصوبے شروع کئے تھے۔ خریداروں سے رابطہ قائم کرنے اور انہیں منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کیلئے ٹٹوالا  اسٹیشن روڈ پر واقع شری نگر کمپلیکس میں مہاراجہ انٹرپرائزبلڈر اینڈ ڈیولپرز اور’ اوم  ۷۸۶؍ایکتا ڈویلپرر اور آر این سی گروپ بلڈر اینڈ ڈویلپر کے نام سے دفاتر کھولے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ملزمین  ۲۰۱۵ء سے شہریوں سے رقم وصول کررہے تھے۔الزام ہے کہ رقم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اسے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کیا اور بعدازاں دفاتر بند کرکے اپنے کرائے کے مکانات بھی خالی کردئیے جس کے بعد ان سے رابطہ قائم کرنا مشکل ہوگیا۔اس معاملے میں متاثرہ شہری چندرکانت گووند پوار کی شکایت پر کلیان تعلقہ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمین کے خلاف بی این ایس کی متعلقہ دفعات اور مہاراشٹر پروٹیکشن آف انٹرسٹ آف ڈپازٹ (ایم پی آئی ڈی) ایکٹ ۱۹۹۹ ءکے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔

ای او ڈبلیو کی متاثرہ شہریوں سے اپیل 

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے تھانے دیہی پولیس کی معاشی جرائم کی شاخ (ای او ڈبلیو) کے سپرد کی گئی ہے۔معاشی جرائم کی شاخ کے انسپکٹر سنتوش چوہان نے اپیل کی ہے کہ مذکورہ رہائشی منصوبوں میں اگر کسی دوسرے شہری کے ساتھ بھی دھوکہ دہی ہوئی ہے تو وہ اپنے پاس موجود ادائیگی کی رسیدیں، مالی لین دین کے ثبوت اور معاہدے سے متعلق دستاویزات کے ساتھ پولیس سے رجوع کریں۔متاثرین تھانے مغرب میں کورٹ ناکہ کے مقام پر واقع پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کی تیسری منزل پر قائم معاشی جرائم کی شاخ کے سیل میں ذاتی طور پر حاضر ہوکر شکایت درج کراسکتے ہیں۔اس کے علاوہ فون نمبر ۰۲۲۔۲۵۴۱۵۰۱۵؍پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK