چیئرمین کی کرسی پر گھمسان، نئی سیاسی صف بندیوں کی آہٹ۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 11:56 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
چیئرمین کی کرسی پر گھمسان، نئی سیاسی صف بندیوں کی آہٹ۔
میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ۱۶؍ رکنی اراکین کا انتخاب مکمل ہوتے ہی چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے جس کے لئے اپنی پارٹی سے بغاوت، کراس ووٹنگ اور سودے بازی کی بازی کے آثار نمایا ہوگئے ہیں۔
واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث مختلف جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ، خفیہ ملاقاتوں اور اتحاد سازی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جس سے آئندہ چند دنوں میں بڑا سیاسی ڈراما دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۳۰؍ہزار سے زیادہ غیرقانونی بسوں پر کارروائی کا مطالبہ
میونسپل کارپوریشن کے عوامی رابطہ افسر شری کانت پردیسی کی جانب سے جاری پریس نوٹ میں منتخب ۱۶؍ اراکین کی فہرست سامنے آئی، جس کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہوا۔ فہرست کے مطابق ۷؍ خواتین اور ۹؍ مرد اراکین اسٹینڈنگ کمیٹی کا حصہ بنے ہیں، جن میں مختلف جماعتوں کی نمائندگی شامل ہے۔ کانگریس کے ٹکٹ پر انصاری ریشما وسیم احمد، انصاری زوحا اسرار، انصاری شبانہ، وجے بھگت اور انصاری ساجد حسین منتخب ہوئے۔ بی جے پی سے سنتوش شیٹی، سمیت پاٹل، سہاس نکاتے اور گیتا نائک کو کامیابی ملی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کی جانب سے ایشا عمران خان اور فراز بہاؤالدین (بابا) منتخب ہوئے جبکہ شیو سینا (شندے) سے اسمیتا نائک اور خان صبیحہ دین محمد کو نمائندگی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ سماج وادی پارٹی کے امن عبید خان، کونارک وکاس اگھاڑی کے میوریش ولاس پاٹل اور بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے جاوید دلوی بھی اسٹینڈنگ کمیٹی میں شامل ہیں۔ اس تقسیم کے بعد سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ کسی بھی ایک جماعت کو واضح اکثریت( ۹؍اراکین) حاصل نہیں ہو سکی، جس کے باعث چیئرمین کے انتخاب میں اتحاد کی سیاست فیصلہ کن ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: آپ کا بی ایل اوکون ہے؟ یہ کیسے معلوم کریں؟
ذرائع کے مطابق متعدد دعویدار میدان میں ہیں اور اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کیلئے نہ صرف اپنی جماعت بلکہ دیگر پارٹیوں کے اراکین سے بھی رابطے قائم کئے جا رہے ہیں۔ بعض سطحوں پر نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر وقتی اتحاد بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین نہ صرف مالیاتی اور ترقیاتی فیصلوں کا محور ہوتا ہے بلکہ شہر کی آئندہ سیاست کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ رسہ کشی کو بھیونڈی کی بلدیاتی سیاست کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔