Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں مجسمۂ مسیح کی بے حرمتی، دو اسرائیلی فوجیوں کو جیل

Updated: April 22, 2026, 6:44 PM IST | Beirut

جنوبی لبنان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی پر اسرائیلی فوج کے دو اہلکاروں کو سزا دے دی گئی جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ واقعے نے مذہبی احترام اور جنگی اخلاقیات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

جنوبی لبنان میں ایک عیسائی گاؤں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو توڑنے پر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) کے دو فوجیوں کو جنگی ڈیوٹی سے ہٹا کر ۳۰؍دن کیلئے جیل بھیج دیا گیاجبکہ ایک فوجی نے ہتھوڑے سے مجسمے کے سر پر وار کیا اور دوسرے نے اس عمل کی ویڈیو بنائی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر میں ایک فوجی کو صلیب پر مصلوب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کے سر پر ہتھوڑا مارتے ہوئے دکھایا گیا، جس پر دنیا بھر کی مسیحی برادری میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ تصویر کی تصدیق کے بعد فوج نے تحقیقات کا آغاز کیا اور کہا کہ فوجیوں کا یہ عمل’آئی ڈی ایف کے احکامات اور اقدار سے مکمل انحراف‘ہے۔ دونوں فوجیوں کو جنگی ڈیوٹی سے ہٹا کر فوجی جیل بھیج دیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز امریکہ کےکنٹرول میں، کسی جہاز کو ایرانی بندرگاہ جانے کی اجازت نہیں

تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مزید چھ فوجی موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے مداخلت نہیں کی۔ فوج کے مطابق ان فوجیوں کو وضاحت کیلئے طلب کیا گیا ہے اور ان کے خلاف مزید کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ فوج نے کہا کہ مذہبی مقامات اور علامات کے احترام سے متعلق ہدایات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک نئے صلیب کے مجسمے کی تصویر بھی جاری کی گئی، جسے ’’مقامی کمیونٹی کے مکمل تعاون سے‘‘ نصب کیا گیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ مجسمہ دیبل نامی عیسائی گاؤں میں ایک گھر کے باہر نصب تھا، جہاں جاری تنازع کے باوجود کچھ شہری اب بھی مقیم ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایران کو روزانہ ۵۰؍ کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان: ٹرمپ

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واقعے پر ’حیرت اور افسوس‘ کا اظہار کیا، جبکہ وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نےہر اس مسیحی سے معذرت کی جس کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ چرچ رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔ پیئرباتیسٹا پیزابالا نے ’’شدید غم و غصہ‘‘ اور’’بلا مشروط مذمت‘‘کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسیحی عقیدے کی سنگین توہین قرار دیا۔ آرچ بشپ وِنچینزو پاگلیا نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنوبی لبنان تباہی کیلئے نہیں بلکہ شفا دینے اور معجزات دکھانے آئے تھے۔ ‘‘اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ ’’تیز، سخت اور عوامی نتائج ضروری ہیں۔ ‘‘انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس نوعیت کی سزائیں کم ہی دی جاتی ہیں۔ ۲۰۲۵ء کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج کے خلاف بدسلوکی کے۸۸؍ فیصد کیسز بند کر دیئے گئے یا حل نہیں ہوئے۔ لبنان کی تقریباً۵۵؍ لاکھ آبادی میں سے لگ بھگ ایک تہائی مسیحیوں پر مشتمل ہے، جن میں سے کئی افراد مارچ میں تنازع بڑھنے کے بعد جنوبی علاقوں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز امریکہ کےکنٹرول میں، کسی جہاز کو ایرانی بندرگاہ جانے کی اجازت نہیں

جنوبی لبنان کے گاؤں میںاٹلی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب کا متبادل مجسمہ بھیجا
اٹلی نے جنوبی لبنان کے گاؤں دبل (Dibl) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک نیا مجسمہ بھیجا ہے، جو اس سے قبل تباہ ہونے والے صلیب کے متبادل کے طور پر نصب کیا جائے گا۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی عبوری فوج برائے لبنان (UNIFIL) کے مغربی سیکٹر کمان کے ذریعے ایک سرکاری اقدام کے طور پر کیا گیا۔یہ صلیب اس رہائشی باغ میں نصب کرنے کیلئےفراہم کی گئی ہے جہاں اصل ڈھانچہ ایک اسرائیلی حملے کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK