بسوں میں وہیکل لوکیشن ٹریکنگ، پینک بٹن ،فائر سیفٹی اور سی سی ٹی وی لازمی قرار دینے پر بس اسوسی ایشن کا سخت ردعمل۔
اسکول بس۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر حکومت نے اسکول بسوں اور ٹرانسپورٹ سسٹم سے متعلق سخت اور جامع تجاویز پر مبنی مسودہ جاری کیا ہے۔ اس کے جاری ہونے کی تاریخ سے ۱۵؍ دنوں میں متعلقہ ویب سائٹ پر اعتراضات اور تجاویز طلب کئے گئے ہیں ۔ نئے ضابطے کے مطابق اسکول بس کا کرایہ اب آر ٹی او طے کرے گی، طلبہ سے صرف ماہانہ کرایہ وصول کیا جائے گا، اسکول ٹرانسپورٹ کمیٹی بنائی جائے گی، طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر بسوں میں وہیکل لوکیشن ٹریکنگ، پینک بٹن ،فائر سیفٹی اور سی سی ٹی وی لگانا لازمی ہوگا۔ مہاراشٹر اسکول بس اسوسی ایشن نے حکومت کی ان تجاویز پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ۳۰؍ہزار سے زیادہ غیر قانونی بسوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
والدین کی شکایات کا فوری حل نکالنے کیلئے ہر اسکول میں ایک اسکول ٹرانسپورٹ کمیٹی کام کرے گی، جو کرایوں، حفاظت اور خدمات سے متعلق والدین کی شکایات کا ازالہ کرے گی ۔کمیٹی کیلئے سہ ماہی رپورٹس جمع کرانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔طلبہ کی حفاظت کیلئے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ تمام اسکول بسوں اور وین میں وہیکل لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائس اور پینک بٹن لگانا لازمی ہوگا ۔ اس کے علاوہ فائر سیفٹی سسٹم، سی سی ٹی وی اور تمام سیٹوں کیلئے سیٹ بیلٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بھی نافذ کیا جائے گا۔ یہ سسٹم گاڑی کی لائیو ٹریکنگ، ڈیجیٹل حاضری کا ریکارڈ، خودکار الرٹ اور والدین کو براہ راست معلومات فراہم کرے گا۔ اس نظام کو ریاستی سطح کے پلیٹ فارم کے ساتھ بھی مربوط کیا جائے گا۔
ہر طالب علم کی روزانہ حاضری ریکارڈ کرنا ضروری ہو گا، جس میں آنے اور جانے کا وقت بھی شامل ہے۔ خاص طور پر پری پرائمری اور پرائمری (۵؍ویں جماعت تک) کے طلبہ کیلئے ہر سفر پر ایک خاتون عملہ کا ہونا ضروری ہوگا ۔معذور طلبہ کیلئے خصوصی ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کیلئے تربیت یافتہ عملے ، آسان رسائی کے انتظامات اور خصوصی طلبہ کیلئے والدین/اساتذہ کی موجودگی کا انتظام کیا جائے گا ۔
بس ڈرائیوروں، کنڈیکٹروں اور دیگر ملازمین کے کردار کی جانچ، میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ اور آفیشل اپائنٹمنٹ لیٹر لازمی ہوگا ۔مذکورہ قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی ۔ نئے قوانین کے نفاذ کے ۳؍مہینے میں تمام اسکولی گاڑیوں کا قواعد کے مطابق ہونا ضروری ہے ، بصورت دیگر متعلقہ گاڑیوں کے لائسنس معطل یا منسوخ کر دیئے جائیں گے۔ٹرانسپورٹ کے وزیر پرتاپ سرنائک نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ نظرثانی شدہ قواعد اسکولی سواریوں کی نقل و حمل کو زیادہ محفوظ، زیادہ منظم اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنائیں گے ۔
حکومت کے نئے اصولوں کی ضرورت پر سوال اُٹھاتے ہوئے اسکول بس اونرس اسوسی ایشن کےصدر انل گرگ نے کہا ہےکہ ’’ ریاست کے پاس پہلے سے ہی اسکول بس سیفٹی پالیسی ہے، اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً مختلف حکام کی طرف سے رہنما خطوط جاری کئے جاتے ہیں،جب موجودہ اُصولوں کو موثرطریقے سے نافذ نہیں کیا جاتا تو نئے اُصولوں بنانے کا کیا فائدہ ہے۔ حکومت پہلے ان ۳۰؍ہزار سے زیادہ غیر قانونی اسکول وین، بس اور رکشے والوںکے خلاف کارروائی کرے جو اسکولی بچوںکیلئے چلائے جارہے ہیں لیکن انہیں کبھی بھی حفاظتی ضوابط کے دائرے میں نہیں لایا جاتا ہے۔‘‘