Inquilab Logo Happiest Places to Work

فور پی ایم نیوز ’ڈجیٹل لابنگ‘ میں ملوث، ’ہند مخالف جذبات‘ کی تشہیر پر بلاک: مرکز

Updated: April 22, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے عدالت میں دلیل دی کہ فور پی ایم نیوز ’’ڈجیٹل لابنگ‘‘ میں ملوث ہے ،اس کے علاوہ اسے ’’ہندوستان مخالف جذبات‘‘ پھیلانے کی پاداش میں بلاک کیا گیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں الزام لگایا ہے کہ یوٹیوب چینل فور پی ایم نیوز کو مارچ میں `ہندوستان مخالف جذبات پھیلانے اور یہ الزام لگانے پر بلاک کیا گیا تھا کہ ہندوستانی حکام پہلگام دہشت گردی حملے میں ملوث تھے۔عدالت میں دائر حلف نامے میں مرکزی حکومت نے یہ بھی الزام لگایا کہ چینل کا مواد،’’ڈیجیٹل لابنگ‘‘ کی ایک مثال ہے، جس کے ذریعے غیر ملکی عناصر ہندوستان کی خودمختار فیصلہ سازی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایس سیکوریٹی معاملہ، عرضداشت خارج

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے قومی سلامتی اور عوامی نظم و نسق کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے۱۲؍ مارچ کو اس چینل کو بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد فور پی ایم نیوز اور اس کے ایڈیٹر سنجے شرما نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل اور نہ ہی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے انہیں چینل بلاک کرنے کا کوئی باضابطہ حکم یا وجوہات فراہم کیں۔جواب میں وزارت نے عدالت میں الزام لگایا کہ اس چینل کا `مسلسل اندازقیاس آرائی پر مبنی، یک طرفہ، نقصان دہ اور بے بنیاد مواد پیش کرنا تھا۔حلف نامے میں کہا گیا کہ ’’بلاک شدہ چینل پر اپ لوڈ کردہ ویڈیوز میں ہندوستان کی حکومت پر سنگین الزامات لگائے گئے، جیسے ہندوستان کی اسٹریٹجک خودمختاری سے سمجھوتہ کرنا، مغربی ایشیا میں فوجی کارروائی کی پیشگی معلومات ہونا، اور بیرون ملک ہندوستانیوں کو خطرے میں ڈالنا۔‘‘مزید برآں اس میں کہا گیا کہ چینل کے مواد میں دہشت گردی، سرحدی ریاست جموں و کشمیر اور منی پور کی اندرونی سلامتی جیسے موضوعات پر سراسر جھوٹی، اشتعال انگیز، عدم استحکام پھیلانے والی معلومات‘‘بھی شامل ہیں۔ مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ چینل نے پہلگام دہشت گردی حملے پر ہندوستان کے فوجی ردعمل کی صداقت پر بھی سوال اٹھائے اور "من گھڑت بیانیوں کے ذریعے دفاع سے متعلق ایسا بیانیہ  پیش کیا جو مسلح افواج پر اعتماد کو کمزور کر سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’قوم کے نام خطاب‘‘پر ۷۰۰؍ شہریوں کی الیکشن کمیشن میں شکایت

یاد رہے کہ ۲۵؍ اپریل۲۰۲۵ء کو پہلگام قصبے کے قریب بیسران میں ہونے والے دہشت گردی حملے میں۲۶؍ افراد ہلاک اور۱۷؍ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق، دہشت گردوں نے سیاحوں کا مذہب جاننے کے لیے ان کے نام پوچھے اور پھر انہیں نشانہ بنایا۔ ہلاک ہونے والوں میں سے تین کے علاوہ سب ہندو تھے۔بعد ازاں وزارت نے حلف نامے میں کہا کہ نیوزچینل کا مواد ہندوستان کی خودمختاری، سالمیت، دفاع اور سلامتی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لیے نقصان دہ پایا گیا، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍ اے کے تحت آنے والی بنیادوں میں شامل ہے۔اس ایکٹ کے تحت،  اگر مواد قومی سلامتی، خودمختاری یا عوامی نظم کیلئے خطرہ سمجھا جائے تو مرکزی حکومت میں جوائنٹ سکریٹری سے کم درجے کا کوئی مجاز اہلکار سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کے احکامات بھیج سکتا ہے۔ تاہم وزارت نے الزام لگایا کہ درخواست گزار کے چینل کے کام کرنے کا انداز واضح طور پر ’’ڈیجیٹل ایکو چیمبر‘‘کی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے، جہاں منتخب اور تکراری مواد کو ایک ہی بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے گردش کرایاجاتا ہے تاکہ رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے۔ جبکہ چینل کے بلاک ہونے کے بعد ’’دی وائر ‘‘سے بات کرتے ہوئے شرما نے دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی حکومت سخت تنقید کی وجہ سے بار بار پورٹل پر پابندی لگا رہی ہے۔ذہن نشین رہے کہ اس سے قبل اپریل۲۰۲۵ء میں بھی مرکزی حکومت نے اس یوٹیوب چینل کو بلاک کیا تھا۔ اس وقت بھی مرکز نے ’’قومی سلامتی یا عوامی نظم‘‘ کا حوالہ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK