Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی :صاف صفائی اور کچرا منتقلی کے بڑے منصوبوں کو منظوری دی گئی

Updated: March 19, 2026, 3:58 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کی خصوصی جنرل باڈی میٹنگ میں شہر کی صفائی، نکاسی آب اور کچرا انتظام کو بہتر بنانے کیلئے اہم منصوبوں کو منظوری دے دی گئی، جن پر کروڑوں روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ فیصلے میئر نارائن چودھری کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے۔

Bhiwandi Corporation.Photo:FB
بھیونڈی کا رپوریشن۔ تصویر:ایف بی
بھیونڈی نظامپور میونسپل کارپوریشن کی خصوصی جنرل باڈی میٹنگ میں شہر کی صفائی، نکاسی آب اور کچرا انتظام کو بہتر بنانے کیلئے   اہم منصوبوں کو منظوری دے دی گئی، جن پر کروڑوں روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ فیصلے میئر نارائن چودھری کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے، جہاں انتظامیہ نے مانسون سے قبل تیاریوں کو اولین ترجیح قرار دیا۔اجلاس میں سب سے نمایاں فیصلہ شہر بھر میں نالوں اور گٹروں کی صفائی سے متعلق لیا گیا۔ اس کے لئے ۲؍کروڑ۹۲؍ لاکھ ۹۹؍ ہزار ۵۷۴؍روپے کے اخراجات کی منظوری دی گئی ہے۔
 
 
اس مہم کے تحت چھوٹے بڑے نالوں کی صفائی، گندگی اور مٹی کی نکاسی، سڑک کنارے گٹروں کی صفائی اور خراب ڈھانچوں کی مرمت جیسے کام شامل ہوں گے، تاکہ بارش کے دوران پانی جمع ہونے کے مسائل سے شہریوں کو راحت مل سکے۔اسی طرح کچرا انتظام کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ۴۸۰؍ میٹرک ٹن یومیہ صلاحیت کے حامل ٹرانسفر اسٹیشن پروجیکٹ کو بھی منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت ۱۹؍ کروڑ۵۲؍ لاکھ۳۴؍ ہزار۵۷۲؍ روپے ہے، جس میں کارپوریشن کے حصے کے طور پر۵؍ کروڑ۸۵؍ لاکھ۷۰؍ ہزار ۳۷۲؍ روپے(۳۰؍فیصد) خرچ کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت عیدگاہ(۱۲۰؍ ٹن)، مہاڈا کالونی (۱۶۰؍ ٹن) اور فینے پاڑا(۲۰۰؍ ٹن) میں کچرا جمع کر کے اسے کمپریس کر کے ڈمپنگ گراؤنڈ منتقل کیا جائے گا، جس سے صفائی کا عمل زیادہ منظم اور تیز ہوگا۔
 
 
میونسپل کمشنر انمول ساگر نے بتایا کہ ان منصوبوں کے نفاذ کے دوران معیار اور شفافیت پر خاص توجہ دی جائے گی۔ مقامی عوامی نمائندوں کو بھی نگرانی کے عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ کام مؤثر طریقے سے مکمل ہو سکے۔میئر نارائن چودھری نے واضح کیا کہ مانسون سے پہلے صفائی کے کاموں کو مکمل کرنا انتظامیہ کی ترجیح ہے، اسی لیے اس بار پیشگی منظوری دے کر عملدرآمد کو تیز کیا جا رہا ہے۔کارپوریٹر فراز بہاؤالدین نے ایوان میں اس ضمن میں سوال قائم کیا کہ جب پانچوں پربھاگ کمیٹیوں میں گٹروں اور نالوں کی پیمائش مختلف ہے تو مجوزہ ٹینڈر کی رقم یکساں کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ انہوں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ کئی مقامات پر ٹوٹے ہوئے چیمبرز کی مرمت اب تک نہیں کی گئی، جو انتظامیہ کی سنگین کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK