Updated: March 19, 2026, 5:09 PM IST
| Doha
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں توانائی اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی حملے میں ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب دھماکہ رپورٹ ہوا جبکہ جنوبی پارس گیس فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر کے راس لافان انڈسٹریل سٹی پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا جس سے بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس حملے میں شامل نہیں تھا اور مزید توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مخالفت کی ہے۔
قطر گیس تینصیبات پر حملے کے بعد اس میں لگی آگ۔ تصویرـ ایکس
(۱) امریکی اسرائیلی میزائل نے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا
ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب ایک حملہ رپورٹ ہوا ہے جس پر روسی جوہری ادارے روس ایٹم نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روسی حکام نے کہا کہ ’’جوہری تنصیبات کے قریب حملے عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘‘ ایرانی حکام کے مطابق حملہ پلانٹ کے قریبی حصے میں ہوا، تاہم جوہری ری ایکٹر محفوظ رہا اور تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ایسی کارروائیاں جوہری حادثے کا سبب بن سکتی ہیں، جس کے اثرات خطے سے باہر تک جا سکتے ہیں۔‘‘ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہمیں نیٹو کیساتھ کی ضرورت نہیں ہے : ڈونالڈ ٹرمپ
(۲) ٹرمپ نے جنوبی پارس گیس فیلڈ حملے سے امریکہ کو الگ قرار دیا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے کیا اور امریکہ اس میں شامل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کی گئی، امریکہ یا قطر اس میں شامل نہیں تھے۔‘‘ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ قطر کو نشانہ نہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر قطر پر حملہ ہوا تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پارس جیسے اہم توانائی مراکز کو نشانہ بنانا عالمی سطح پر اثرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب گیس فیلڈ پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
(۳) ایران نے قطر کے راس لافان گیس حب پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا
قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایران نے راس لافان انڈسٹریل سٹی کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، جو دنیا کے بڑے ایل این جی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ قطری حکام نے کہا کہ ’’حملے سے متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی، تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ حملہ ہماری خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق اس حملے کے بعد کئی توانائی تنصیبات میں آگ لگ گئی جسے بعد میں قابو میں لایا گیا۔ یہ حملہ جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر سامنے آیا۔
یہ بھی پرھئے: اسرائیل کا ایرانی حکام کو ’موقع پر قتل‘ کرنے کا حکم، تہران کی بدلے کی دھمکی
(۴) ٹرمپ نے توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد کہا ہے کہ مزید توانائی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مزید حملے نہیں ہونے چاہئیں، یہ انتہائی اہم توانائی مراکز ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے قطر کے توانائی مراکز کو نشانہ بنایا تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اگر ایران نے دوبارہ ایسا کیا تو امریکہ بھرپور جواب دے گا۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں توانائی کے مراکز مسلسل حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں اور عالمی سطح پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔