بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کے کمشنر انمول ساگر نے مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے ۱۱۷۹؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ ۹۷؍ ہزار روپے کا بجٹ میئر نارائن چودھری کو خصوصی جنرل باڈی میٹنگ میں پیش کیا۔ اس بجٹ میں۷۳؍ لاکھ۹۶؍ ہزار روپے کی بچت ظاہر کی گئی ہے۔
بھیونڈی کا رپوریشن۔ تصویر:آئی این این
بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کے کمشنر انمول ساگر نے مالی سال ۲۷-۲۰۲۶ء کیلئے ۱۱۷۹؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ ۹۷؍ ہزار روپے کا بجٹ میئر نارائن چودھری کو خصوصی جنرل باڈی میٹنگ میں پیش کیا۔ اس بجٹ میں۷۳؍ لاکھ۹۶؍ ہزار روپے کی بچت ظاہر کی گئی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی میئر طارق مومن، ایڈیشنل کمشنر وٹھل ڈاکے اور نینا سسانے بھی موجود تھے۔یہ بجٹ آمدنی، سرمایہ جاتی اخراجات اور مختلف نئے محکموں کو شامل کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے جن میں پانی سپلائی و سیوریج، کمزور طبقات کی فلاح، فائر بریگیڈ و ڈیزاسٹر مینجمنٹ، خواتین و اطفال، معذورین، درختوں کی افزائش، محکمہ تعلیم، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
میونسپل کارپوریشن کے مطابق ۲۷- ۲۰۲۶ء کے آغاز میں ۲۴۱۵۱ء۸۸؍ لاکھ روپے کی ابتدائی رقم متوقع ہے جبکہ کل آمدنی کا تخمینہ ۱۱۷۹۱۰ء۹۷؍ لاکھ روپے رکھا گیا ہے جس کے تحت۷۳ء۹۶؍ لاکھ روپے کی بچت کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری اصولوں کے مطابق خواتین، بچوں، کمزور طبقات اور معذوروں کی فلاح کیلئے لازمی اخراجات کے بعد بچی ہوئی آمدنی کا۵؍ فیصد یعنی۳؍کروڑ۲۶؍ لاکھ۴۰؍ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔خصوصی اجلاس میں کارپوریٹروں کی حاضری کم رہی اور کمشنر نے مکمل بجٹ پڑھنے کے بجائے صرف اہم نکات پیش کیے جس کے بعد محض۱۵؍ منٹ میں اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ میئر نے اعلان کیا کہ بجٹ پر تفصیلی بحث کیلئے ۳۰؍ مارچ کو خصوصی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔
کمشنر نے واضح کیا کہ ۲۶-۲۰۲۵ءکا ترمیم شدہ بجٹ۱۱۱۷؍ کروڑ۵۲؍ لاکھ۵۴؍ ہزار روپے جبکہ۲۷-۲۰۲۶ء کا اصل بجٹ۱۱۷۹؍ کروڑ۱۰؍ لاکھ۹۷؍ ہزار روپے ہے جس میں۷۳ء۹۶؍لاکھ روپے کی بچت شامل ہے۔
بجٹ میں خواتین، اطفال، کمزور طبقات و معذوروںکیلئے۳ء۲۶؍ کروڑ روپے، پانی سپلائی کیلئے ۱۰۵؍ کروڑ۱۴؍ لاکھ۹۱؍ ہزار روپے،محکمہ تعلیم کیلئے ۷۶؍ کروڑ۱۱؍ لاکھ۲۶؍ ہزار روپے مختص کئےگئے ہیں۔شہر کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے مختلف اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے جن میں اے پی جے عبدالکلام تعلیمی مہم کے تحت طلبہ کو تعلیمی سامان فراہم کرنے کیلئے ایک کروڑ روپے، پی ایم ای بس سروس کیلئے۵؍ کروڑ روپے، جائیداد کے جی آئی ایس سروے کیلئے ۱۰؍ کروڑ روپے، اسکولوں کی مرمت کیلئے۴؍کروڑ روپے شامل ہیں۔اسی طرح بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے ’نگروتھان‘ اسکیم کے تحت۵۹ء۴۲؍کروڑ روپے، فائر بریگیڈ و ٹیکنیکل محکموں میں ماہر عملے کی تقرری کیلئے۳ء۵۰؍کروڑ روپے، ’امرت۲ء۰؍‘ کے تحت۱۰۰؍ ایم ایل ڈی پانی منصوبے کیلئے۲۵؍ کروڑ روپے جبکہ سڑکوں کی چوڑائی کے پیش نظر بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کیلئے۲؍ کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔اجلاس میں شیوسینا کے کارپوریٹر منوج کاٹےکرنے مطالبہ کیا کہ اراکین کو بجٹ کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت دیا جائے، جس کی کانگریس کے پرشانت لاڈ اور بی جے پی کے سمیت پاٹل نے بھی حمایت کی۔