مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان ہندوستانی حکومت شہریوں کی حفاظت، گیس اور ایندھن کی دستیابی، توانائی کی سلامتی اور خود کفالت کے حوالے سے پوری طرح مستعد ہے اور ہر ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2026, 3:03 PM IST | New Delhi
مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان ہندوستانی حکومت شہریوں کی حفاظت، گیس اور ایندھن کی دستیابی، توانائی کی سلامتی اور خود کفالت کے حوالے سے پوری طرح مستعد ہے اور ہر ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان ہندوستانی حکومت شہریوں کی حفاظت، گیس اور ایندھن کی دستیابی، توانائی کی سلامتی اور خود کفالت کے حوالے سے پوری طرح مستعد ہے اور ہر ضروری قدم اٹھا رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح شہریوں کی حفاظت ہے۔ اب تک ۷۵ء۳؍ لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ واپس لایا جا چکا ہے، جن میں ایران سے ۷۰۰؍ سے زائد میڈیکل طلبہ بھی شامل ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد اور علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے مغربی ایشیا کے کئی ممالک کے لیڈروں سے دو بار بات چیت کی ہے۔ ہندوستان مسلسل خلیجی ممالک، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ خطے میں امن بحال ہو سکے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولا جا سکے۔ہندوستان نے واضح طور پر شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور توانائی/ٹرانسپورٹ نظام پر حملوں کی مخالفت کی ہے اور تمام فریقوں سے پرامن حل کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ ملک کی تمام ریفائنریزپوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔ گھریلو ایل پی جی پیداوار بھی بڑھائی گئی ہے اور پٹرول-ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کچھ جگہوں پر افواہوں کی وجہ سے گھبراہٹ میں خریداری ہوئی، لیکن حکومت نے ان افواہوں کو غلط قرار دیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ خام تیل اور ایل پی جی لے کر آنے والے جہاز مسلسل ہندوستان پہنچ رہے ہیں اور سپلائی برقرار رکھنے کے لیے بیک اپ منصوبے بھی تیار کیے گئے ہیں۔
توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان نے اپنے تیل اور گیس درآمدی ذرائع ۲۷؍ سے بڑھا کر ۴۱؍ ممالک تک کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ۵۳؍ لاکھ ٹن سے زیادہ کا اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ بنایا گیا ہے، جسے ۶۵؍ لاکھ ٹن تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور گھریلو ایل پی جی پیداوار کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت نے۷۰؍ہزار کروڑ روپے کا ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ شپ بلڈنگ مشن شروع کیا ہے۔ اس کے تحت جہاز سازی، مرمت اور ری سائیکلنگ کی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے۔ دفاعی شعبے میں بھی خود کفالت پر زور دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ کھاد کی مناسب دستیابی ہے اور کسانوں پر اس بحران کا بوجھ نہیں پڑنے دیا جائے گا۔
حکومت نے ریسٹورنٹس، ڈھابوں، کینٹین اور مہاجر مزدوروں کے لیے گیس سپلائی کو ترجیح دی ہے۔ پہلے ۲۰؍ فیصد کمرشیل ایل پی جی سپلائی بحال کی گئی اور اب اسے بڑھا کر ۵۰؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ گھریلوپی این جی اور سی این جی سپلائی ۱۰۰؍ فیصد جاری ہے جبکہ صنعتی اور کمرشیل شعبے کو تقریباً ۸۰؍ فیصد گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ ایک ہی دن میں۷۵۰۰؍ سے زیادہ پی این جی کنکشن جاری کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:`پرفیکشن جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی، اپنی کمیوں کا جشن منانا چاہیے:سوربھ شکلا
اس کے ساتھ ہی حکومت نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اب تک تقریباً ۳۴۰۰؍ چھاپے مارے گئے، ۱۰۰۰؍ سلنڈر ضبط کیے گئے، ۶۴۲؍ ایف آئی آر درج ہوئیں اور ۱۵۵؍ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ آئل کمپنیوں نے ۱۵۰۰؍سے زیادہ اچانک معائنے کیے ہیں۔ سمندری سلامتی کے حوالے سے فارسی خلیج میں تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں۔ کوئی بھی ہندوستانی جہاز متاثر نہیں ہوا ہے۔ پائن گیس اور جگ وسنت نامی دو ایل پی جی جہاز آبنائے ہرمز عبور کر کے ہندوستانی کی طرف آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ۱۵؍ نکاتی امن منصوبہ ایران کو بھیج دیا
وزارت خارجہ اور ہندوستانی سفارت خانے بھی ۲۴؍ گھنٹے ہیلپ لائن چلا رہے ہیں اور لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ۲۸؍ فروری سے اب تک تقریباً۰۲ء۴؍ لاکھ افراد ہندوستان واپس آ چکے ہیں۔ یو اے ای، سعودی عرب، عمان اور قطر سے پروازیں جاری ہیں، جبکہ کویت، بحرین، ایران اور اسرائیل میں پھنسے بھارتیوں کو سعودی عرب، آرمینیا، آذربائیجان اور اردن کے راستے واپس لایا جا رہا ہے۔