اجئے نے اس بار ۱۰۹؍ویں رینک حاصل کی ہے، پچھلی بار ان کا رینک۷۳۰؍واں تھا، آئی اے ایس کیڈرکے ہدف نے انہیں دوسری کوشش کی ترغیب دی ۔
یہ دوسری بار ہے جب اجئے نے سول سروس امتحان میں کامیابی حاصل کی- تصویر:آئی این این
صلاحیت کبھی سہولت کی محتاج نہیں ہوتی، وہ اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔ ایسی کچھ کہانی ہے اجے آر راج کی ، جن کی بچپن میںبینائی کم ہو گئی ۔ لیکن انہوں نے حصول تعلیم کا سفر جاری رکھا۔ والد نے بھی ہمت نہیں ہاری اور آٹو چلا کر ہر دن بیٹے کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ جدوجہد، آنسوؤں اور بے شمار راتوں کی محنت کے بعد بیٹے نے دو بار یوپی ایس سی جیسے مشکل امتحان کو پاس کر کے ثابت کیا کہ خواب صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ مضبوط ارادے سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان کی کامیابی کی کہانی کیسے اٹوٹ یقین، قربانی اور جذبے کی مثال بنی۔
اجے آر راج کیرالا کے کوذی کوڈ کے تھوٹلپالم کے رہنے والے ہیں۔ ایک انٹرویو میں وہ بتاتے ہیں کہ ان کا خاندان سادہ ہے۔ والد آٹو ڈرائیور ہیں اور والدہ خاتون خانہ ہیں۔ اسی لئے بچپن سے ہی انہوں نے پڑھائی پر توجہ دی۔ والد نےآٹو چلا کر نہ صرف گھر کے اخراجات پورے کئے بلکہ بیٹے کی تعلیم کیلئے ہر ممکن ضرورت پوری کی۔ جب اجئے ۸؍یا ۹؍سال کے تھے تو ان کی آنکھوں کی روشنی کم ہو گئی، جس سے زندگی مشکل ہو گئی۔ وہ بہت پریشان بھی ہوئے کیونکہ وہ چیزوں کو واضح طور پر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسکے باوجود انہوں نے حالات کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اور آگے بڑھنے کا عزم کیا۔ دہلی کے سینٹ اسٹیفنز کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنے خواب نہیں چھوڑے۔ انہوں نے انگلش لٹریچر میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے خواب کو نئی طاقت ملی، کیونکہ وہ مانتے تھے کہ محنت اور مسلسل مشق سے کسی بھی کمی کو پیچھے چھوڑا جا سکتا ہے۔
یوپی ایس سی کی تیاری کے دوران اپنے ابتدائی۲؍سے ۳؍ کوششوں میں اجے کو کئی بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی پریلیمز میں تو کبھی مینز میں رکنا پڑا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ مالی مشکلات کے دوران انہوں نے کالج میں پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ اپنی تیاری کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتے رہے اور خود کو مضبوط بناتے رہے۔ مسلسل کوششوں کے بعد اجے نے ایک نہیں بلکہ دو بار کامیابی حاصل کی۔
اپنے پانچویں امتحان میں انہوں نےسول سروس امتحان ۲۰۲۵ء کے نتائج میں۱۰۹؍ویں رینک حاصل کی۔ اس سے پہلے وہ۷۳۰؍ویں رینک کیساتھ ریلوے سروس میں بھی منتخب ہو چکے تھے، لیکن انہوں نے آئی اے ایس کیلئے دوبارہ کوشش کی۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے خاندان اور اساتذہ کے سر باندھا۔ ان کی کہانی یہ سیکھاتی ہے کہ مضبوط ارادوں سے ہر خواب پورا کیا جا سکتا ہے۔