بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن میں ۲۸؍گرام پنچایتوں کو شامل کرنے کی تیاری

Updated: July 24, 2021, 9:31 AM IST | khalid abdul Qayyum | Mumbai

تجویز منظور ہونے پرشہری انتظامیہ کے رقبے میں ۴؍ گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ملک کے سب سے بڑے گودام مراکز کو شامل کئے جانے سے آمدنی بھی کافی بڑھ جائے گی

It is proposed to include the surrounding villages in the boundaries of Bhiwandi Municipal Corporation. (File photo)
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی حدود میں اطراف کے گاؤں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ (فائل فوٹو)

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن سے متصل دیہاتوں کی ہمہ جہت ترقی کے نام پر ریاستی حکومت نے  میونسپل کارپوریشن کے رقبے میں اضافے کا منصوبہ بنایا ہے۔اگر منصوبہ کو عملی جامہ پہنچایا گیا تو بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کی حدود میں ۲۸؍ گاؤں شامل کرلئے جائیں  گے جس سے اس کے رقبے میں تقریبا ۴؍گنا اضافہ ہوجائے گاجس کی وجہ سے شہر سے ملحق یہ ۲۸؍گاؤں گرام پنچایتوں کے بجائے میونسپل کارپوریشن کےماتحت آجائیں گے۔ ۲۸؍گرام پنچایتوں   کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے گودام  مراکز کو میونسپل کارپوریشن میں شامل کرنے سے بلدیہ عظمیٰ کی آمدنی میں کافی اضافہ  ہوجائے گالیکن گرام پنچایتوں کو میونسپل کارپوریشن میں شامل کرنے کی حکومت کی تجویز کے خلاف دیہی علاقوں کے سیاسی لیڈران کی جانب سے بھر پور مخالفت کا امکان ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت کے اس منصوبے پر عمل کیا گیا تومیونسپل کارپوریشن کی سیاست میں فعال مسلم لیڈران کا بھی زبردست نقصان ہوگا۔ 
  اس وقت بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کا رقبہ۲۶ء۴۱؍  مربع کلومیٹر ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی حدود سے ملحق ۲۸؍ گاؤںکو اس میں شامل کرلیا گیا تواس کا مجوزہ علاقہ۹۰ء۸۶؍  مربع کلومیٹرتک پھیل جائے گا۔اس کی آبادی میں بھی کاطر خواہ اضافہ ہوگا۔بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی آبادی فی الحال  ۷؍ لاکھ ۹؍ہزار۶۶۵؍ہے۔ رقبے میں اضافہ ہونے پر اس کی نئی آبادی ۸؍لاکھ۷۶؍ہزار۵۶۸؍تک پہنچ جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن سے متصل گرام پنچایتوں کی ہمہ جہت ترقی کے پیش نظر ہی اسے شہرمیں تبدیل کرنے کیلئے  حکومت نے اسے کارپوریشن میں شامل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
 واضح ہوکہ میونسپل کارپوریشن کی حدود میں شامل کئے جانے والے گرام پنچایتوں میں ۵۰؍ ہزار سے بھی زائد گودام ہیں۔ یہاں بڑے پیمانے پر پاور لوم کارخانے اور مشہور قومی و بین الاقوامی کمپنیوں کے بڑے بڑے گودام ہیں۔بتایا جاتا ہے جتنے پاور لوم کارخانے میونسپل حدود میں ہیں، اس سے کہیں زیادہ گرام پنچایتوں کے علاقوں میں ہیں  اور یہاں جدید ترین خود کار پاور لوم بھی نصب ہیں جہاں لاکھوں میٹر کپڑا روزانہ تیار کیا جاتا ہے جس سے گرام پنچایتوں کو بڑی بڑی رقوم بطور محصول حاصل ہوتی ہے۔ ان گرام پنچایتوں کو میونسپل کارپوریشن میں شامل کرنے سے میونسپل کارپوریشن کی آمدنی میں کافی اضافہ ہوگا۔
 اس کے برعکس گرام پنچایتیں ختم ہوجائیں گی اور وہاںکی سیاست میں فعال چھوٹے سیاستدانوں کو نقصان پہنچے گا۔ اسی کے ساتھ  دیہی علاقوں میں آباد مکینوں  پر مختلف ٹیکس جیسے پانی ، پراپرٹی اور یگر ٹیکس کا بوجھ بڑھ جائے گاجس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں آباد افراد اور سیاستداں حکومت کے  اس منصوبے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ 
  تقریباً۸؍سال قبل بھی میونسپل کارپوریشن سے متصل دیہاتوںکومیونسپل حدود میں شامل کرنے کی تجویز تیار کی گئی تھی جس کی شدید مخالفت کے پیش نظر اسے سرد خانے  میں ڈال دیا گیا تھا۔
 رہنال گرام پنچایت کے سابق سرپنچ راجندر بھوئر نے گرام پنچایتوں کو میونسپل کارپوریشن میں شامل کرنے کی تجویز کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بھیونڈی نظامپور میونسپلٹی کو میونسپل کارپوریشن بنے تقریبا۲۰؍برس کا عرصہ ہوچکا ہے پھر بھی شہریوں کو بنیادی سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔ جب میونسپل کارپوریشن اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اب تک ناکام ثابت ہورہی ہے تو پھر اس کیلئے دیہی علاقوں میں آباد افراد کو شہری سہولیات کس طرح مہیا کروائے گی؟
 بی جے پی کے سینئر لیڈر نلیش چودھری نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر حکومت کی اس تجویز پر سخت اعتراض کیا ہے  اوراس طرح  کےکسی بھی منصوبے کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
 اس سلسلے میںشیوسینا لیڈراوربھیونڈی (دیہات) کے رکن اسمبلی شانتا رام مورے نے بتایاکہ ’’گرام پنچایتوں کو کارپوریشن میں شامل کرنے کے معاملے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔حکومت دیہی علاقوں میں آباد مکینوں کے جذبات کو دھیان میں رکھ کر ہی کوئی قدم اُٹھائے گی۔  ‘‘

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK